سعودی نوجوان نے داعش کا خودکش حملہ کیسے ناکام بنایا ؟ماں دکھ بھری کہانی سناتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نیویارک میں ایک بھرے ہال میں سعودی صحافیہ اور لکھاریہ کوثر الارباش نے مئی 2015ء میں الدمام میں ایک مسجد پر داعش کے خودکش بم حملے کو ناکام بنانے کا واقعہ دکھ بھرے انداز میں بیان کیا ہے ۔داعش کا یہ حملہ کسی اور نے نہیں بلکہ ان کے اپنے جگر گوشے نے ناکام بنا یا تھا اور اپنے ہم وطنوں کو بچانے کے لیے اپنی جان قربان کردی تھی۔

کوثر سعودی عرب کے خیراتی ادارے مسک فاؤنڈیشن اور یو این ڈی پی کے زیر اہتمام رواداری کے موضوع پر منعقدہ فور م میں تقریر کررہی تھیں۔ان کی تقریر کے دوران میں سامعین نے انھیں بھرپور انداز میں کھڑے ہوکر خراجِ تحسین پیش کیا۔اس فاؤنڈیشن کے سربراہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔

کوثر الارباش نے اپنی تقریر میں کہا کہ’’ میں جب اپنے بیٹے محمد کی شہادت کا سوگ منا رہی تھی تو مجھے احساس ہوا کہ اس خودکش بمبار کی ماں بھی اس وقت سوگ منا رہی ہوگی۔میں نے یہ بھی سوچا کہ اس کا بیٹا کیسے انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا لیکن ہم سب ایک چیز چاہتے ہیں اور وہ امن اور تحفظ کے ساتھ رہنا ہے‘‘۔

کوثر الارباش انتہا پسندی کے خلاف کھل کر بولتی رہتی ہیں اور لکھتی ہیں۔بالخصوص اپنے بیٹے کے مسجد پر بم حملے کو روکتے ہوئے شہید ہونے کے بعد سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف بھرپور انداز میں بول رہی ہیں۔

ان کا بیٹا محمد العیسیٰ اور ان کا بھانجا عبد الجلیل الارباش الدمام میں ایک مسجد کے باہر مئی 2015ء میں خودکش بمبار کو روکتے ہوئے دھماکے میں موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے۔

انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ مجھے جونھی اپنے بیٹے کی داعش کے ایک جنگجو کے ہاتھوں موت کا پتا چلا تو میں نے فوری طور پر ایک بیان جاری کیا اور اس قاتل کے خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا کیونکہ میں انتہا پسند ی کا راستہ روکنا چاہتی تھی جنھوں نے ہمارے بیٹوں کو ذہنی غسل دے کر اپنی صفوں میں شامل کر لیا تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس واقعے سے بہت سے سبق سیکھے گئے ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ انتقام سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ انتقام ، نفرت اور سفاکیت انتہا پسندی کی پیداوار ہیں۔ہر انتہا پسند کی آخری لکیر سے واپسی ممکن ہے لیکن ہمیں ان کے سامنے سینہ تان کر اٹھ کھڑے ہونا ہوگا اور انھیں بتانا ہوگا کہ اب ہمیں بے وقوف بنانے کا سلسلہ بند کر دیا جائے‘‘۔

کوثر نے شاہ فیصل یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔وہ سعودی عرب کی سوسائٹی برائے کلچر اور آرٹس کے بورڈ کی رکن ہیں۔انھوں نے اپنی تقریر کا اختتام اپنے ملک سعودی عرب کے شکریے کے ساتھ کیا جو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک بھر پور جنگ لڑ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں