.

بنگلہ دیش : 20 ہزار افراد کی روہنگیا مسلمانوں کے حق میں ریلی

حکومت سے میانمار کے خلاف اعلان جنگ کا مطالبہ، مظاہرین پرامن طور پرمنتشر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں کم سے کم بیس ہزار افراد نے پڑوسی ملک میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر سکیورٹی فورسز کے مظالم کے خلاف ریلی نکالی ہے۔ مظاہرین سوموار کو بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مسجد کے باہر جمع ہوئے اور پھر انھوں نے میانمار کے سفارت خانے تک احتجاجی مارچ کیا ہے۔

گذشتہ جمعہ کو بھی پندرہ ہزار افراد نے میانمار کے خلاف مظاہرہ کیا تھا اور انھوں نے بنگلہ دیشی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش تماشائی بن کر نہ بیٹھے اور میانمار کے خلاف جنگ کا اعلان کرے۔

آج کی ریلی کا اہتمام حفاظتِ اسلامی گروپ نے کیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ اس کے ہزاروں کارکنان میانمار کے سفارت خانے کا گھیراؤ کریں گے لیکن ڈھاکا میں کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات تھی اور انھوں نے مظاہرے کے شرکاء کو سفارت خانے کی عمارت کی جانب جانے سے روک دیا۔

ڈھاکا میٹرو پولیٹن پولیس کے ڈپٹی کمشنر انو ر حسین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ احتجاجی مظاہرے میں قریباً بیس ہزار افراد نے شرکت کی ہے۔پہلے کشیدگی پائی جارہی تھی لیکن بعد میں مظاہرین آہستہ آہستہ پُر امن طور پر منتشر ہوگئے ہیں۔حفاظت اسلامی کے عہدہ داروں نے احتجاجی ریلی کے شرکاء کی تعداد کہیں زیادہ بیان کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس جماعت کے ملک بھر سے تعلق رکھنے والے حامیوں اور کارکنان نے اس ریلی میں شرکت کی ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں 25 اگست سے نئی تشدد آمیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اب تک چار لاکھ دس ہزار کے لگ بھگ روہنگیا مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں کی جانب ہجرت کرگئے ہیں اور وہاں کسمپرسی کی حالت میں مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

راکھین میں آباد روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش کے علاقے چٹاگانگ میں آباد لوگوں سے تاریخی اور لسانی مراسم و روابط استوار ہیں۔ ان کی زبان اور ثقافت کم و بیش ایک ایسی ہے۔ اس لیے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف برما کی سکیورٹی فورسز کے مظالم اور ا نتہا پسند بدھ متوں کے حملوں کے بعد بنگلہ دیش میں شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔

میانمار سے سرحد عبور کرکے آنے والے مسلمان مہاجرین سکیورٹی فورسز اور بدھ مت جتھوں کے حملوں کی خوف ناک اور دل دوز کہا نیاں بیان کررہے ہیں۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں حال ہی میں نئے مہاجرین کی آمد سے قبل تین لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا مسلمان مہاجر کیمپوں میں رہ رہے تھے۔