.

مُرسی کے جاسوسی کیس میں حمد بن جاسم کے کردار کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو روز قبل مصر کی ایک اپیل کورٹ کی جانب سے معزول صدر محمد مرسی کو قطرکے لیے جاسوسی کےمقدمہ میں سنائی گئی عمر قید کی سزا بحال رکھنے کے بعد اس مقدمہ میں سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم کے کردار کی عدالتی تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل کو احکامات دیے ہیں کہ وہ جاسوسی مقدمہ میں مزید ضروری تحقیقات کریں، اس ضمن میں قطری ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ اور سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم کی طرف منسوب ان کے بعض تصرفات، افعال، ایک غیرملک کو ریاست کی خفیہ معلومات فراہم کرنے کے فوج داری جرائم کی تحقیقات کریں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ اس کیس میں ملک کے دفاعی، سیاسی، سفارتی اور اقتصادی اثاثوں کو کتنا نقصان پہنچایا گیا اور قومی مفاد اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کتنی مالی قیمت وصول کی گئی۔

الجزیرہ ٹی وی کے چیئرمین اور حمد بن جاسم پرالزامات

مصری پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے معزول صدر کے قطرکے لیے جاسوسی کیس میں ان پر ریاست کے فوجی راز اور قومی سلامتی کی اہمیت کی حامل دستاویزات قطر کو فراہم کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

سپریم اسٹیٹ سیکیورٹی پراسیکیوشن کے نگران وکلاء استغاثہ تامر فرجانی اور خالد ضیاء لدین کے مطابق معزول سابق صدر محمد مرسی اور دوسرے ملزمان نے دوسرے ملک کو فراہم کرنے کے لیے اہم نوعیت کے دفاعی راز معلوم کیے تھے۔

اس کے علاوہ انہوں نے پبلک انٹیلی جنس، ملٹری انٹیلی جنس، مسلح افواج، نیشنل سیکیورٹی سیکٹر اور ایڈ منسٹریشین کنٹرول اتھارٹی کی دستاویزات جن میں مسلح افواج کی تنصیبات، مراکز، ریاست کی داخلہ اور خارجہ پالیسی سے متعلق اور حساس معلومات تھیں کو افشاء کرنے کے لیے قطر کو فراہم کیا۔

تحقیقات کے مطابق نو ملزمان نے دسویں ملزم جو کہ الجزیرہ ٹی وی کے ایک پروگرامر، گیارہویں ملزم جو کہ ٹی وی چینل کے نیوزڈائریکٹرایک قطری ملٹری انٹیلی جنس افسر کو حساس تصاویر فراہم کرنے، رپورٹس اور دستاویزات مہیا کرنے سے اتفاق کیا تھا۔ ان اہم دستاویزات میں مصری فوج کے مراکز، سیاسی، سفارتی، اقتصادی، قومی مفادات، منصوبوں پرعمل درآمد، اخوان المسلمون کےبین الاقوامی اخراجات جیسے امور کی معلومات شامل تھیں قطری ٹی وی پر نشرکرنے کی اجازت دی تھی۔

15 لاکھ ڈالر کا معاوضہ

قطر کے لیے جاسوسی کیس کی تحقیقات کے دوران نیشنل سیکیورٹی افسران نے انکشاف کیا کہ اس کیس میں ملوث دسواں ملزم قاہرہ سے قطر پہنچا جہاں اس نے الجزیرہ ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز اور کیس کے گیاہرویں ملزم، سابق وزیراعظم و وزیرخارجہ حمد بن جاسم، ایک انٹیلی جنس افسر سے دوحہ میں شیراٹون ہوٹل میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں قطر کو مصرکی حساس معلومات فراہم کرنے اور انہیں الجزیرہ ٹی وی چینل کے ذریعے افشاء کرنے پر اتفاق کیا۔ ان معلومات کے افشاء کے بدلے میں قطر نے مصری ملزمان کو پندرہ لاکھ ڈالر کی رقم ادا کرنا تھی۔
تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نمبر دس کو ان افراد کی جانب سے 50 ہزار ڈالر کی رقوم ادا کی جانی تھی۔ ملزم نمبر چار کو ویسٹرن یونین کے ذریعے 10 ارب ڈالرادا کیے گئے۔