اپنی سرحد پر نسلی بنیاد پر کوئی ریاست قائم نہیں ہونے دیں گے: ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے وزیر دفاع نور الدین جانکلی نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنوب میں نسلی بنیاد پر کسی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ عراق اور شام کی اراضی کی وحدت کو پامال کرنے سے وسیع پیمانے پر عالمی تنازع کا شعلہ بھڑک سکتا ہے۔

منگل کے روز ترکی کی افواج ملک کی جنوبی سرحد پر پھیل گئیں اور انہوں نے اپنے ہتھیاروں کا رخ شمالی عراق کی جانب کر لیا جس علاقے کو کرد چلا رہے ہیں۔ یہاں کے حکام خود مختاری کے حوالے سے ایک ریفرنڈم کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو انقرہ اور مغربی طاقتوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔

عراق کی سرحد سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ترکی کی ٹینک اور میزائل داغنے والے لانچرز موجود ہیں۔

ترکی کی فوج کے ذرائع نے بتایا ہے کہ پیر کے روز بنا کسی پیشگی اطلاع کے شروع ہونے والی عسکری تربیتی مشقیں 26 ستمبر یعنی عراقی کردستان میں مقررہ ریفرنڈم کی تاریخ کے ایک روز بعد تک جاری رہیں گی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے نمائندے نے 4 بکتربند گاڑیوں کو دیکھا جو بھاری ہتھیاروں اور فوجیوں کو لے کر سرحد کی جانب جا رہی تھیں۔ ان کے علاوہ ایک مقام پر بجلی کے جنریٹرز اور سیٹلائٹ سیاروں سے رابطوں کے لیے ڈش بھی دیکھی گئی۔

طاقت کا یہ مظاہرہ ترکی کو لاحق تشویش کا حجم ظاہر کر رہا ہے۔ انقرہ کو اندیشہ ہے کہ عراقی کردستان کا مقررہ ریفرنڈم کالعدم کردستان لیبر پارٹی کی ہمت کو بڑھائے گا جس نے گزشتہ تیس برسوں سے ترکی کے جنوب مشرق میں بغاوت کا پرچم بلند کیا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی کی وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو انقرہ طاقت کے استعمال سے ہر گز نہیں ہچکچائے گا۔ اس صورت حال نے ترکی کی کرنسی پر بھی اثر ڈالا ہے اور منگل کے روز ڈالر کے مقابل ترک لیرہ کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی۔ چار ہفتوں میں پہلی مرتبہ ایک ڈالر کی قیمت 3.5 لیرہ سے کم ہو گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں