تہران کے برخلاف ایران کے کُرد عراقی کردستان کے ریفرنڈم کے حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں کرد جماعتوں اور شخصیات نے عراقی کردستان میں خودمختاری کے حوالے سے 25 ستمبر کو مقررہ ریفرنڈم کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس حوالے سے کردوں کی سب سے بڑی جماعت ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے ایک بیان میں ریفرنڈم کے لیے اپنی سپورٹ کا اعلان کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ "کرد عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں"۔

ایران میں کردوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی جماعت کا جو تقریبا 70 برس پہلے وجود میں آئی تھی.. کہنا ہے کہ کرد ایک قوم ہیں جن کو استعمار نے ان کی چاہت کے بغیر چار پڑوسی ممالک میں بانٹ دیا"۔

ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی ایرانی عوام کی دیگر قومیتوں مثلا عرب ، بلوچ ، ترکمان اور ترک ان کی جماعتوں کے ساتھ ایرانی نظام کے سقوط اور ایک وفاقی ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

ایران میں Komala Party of Iranian Kurdistan نے بھی عراقی کردستان میں ریفرنڈم کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ریفرنڈم ایران کے کردوں پر اچھے نفسیاتی ، معنوی اور سیاسی اثرات مرتب کرے گا۔ پارٹی کے سربراہ عبداللہ مہتدی کا کہنا ہے کہ عراقی کردستان میں خود مختاری کا ریفرنڈم ایران کے کردوں میں خود اعتمادی کو کئی گُنا بڑھا دے گا اور ایرانی نظام میں اپنے حقوق کے مطالبات کے حوالے سے ان کے عزم میں اضافہ کرے گا۔

ایران کے کُرد ملک کے شمال مغرب اور مغربی حصے میں رہتے ہیں۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان کی آبادی 70 لاکھ سے زیادہ ہے جو تین صوبوں كردستان ، ایلام اور مغربی آذربائیجان میں تقسیم ہے۔

ایک جانب ایران کے کردوں کی جانب سے عراق میں اپنی قوم کے لوگوں سے متعلق ریفرنڈم کو سراہا جا رہا ہے تو دوسری جانب تہران ایک سے زیادہ مرتبہ رواں ماہ مقررہ ریفرنڈم کی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے۔ ایران کے نزدیک اس کے یہاں بسنے والے کردوں کی اپنے مستقبل کے فیصلے کی خواہش کے پیشِ نظر یہ ریفرنڈم اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ بالخصوص جب کہ بہت سے تجزیہ کاروں کا یہ خیال ہے کہ عراق میں ہونے والا یہ ریفرنڈم پڑوسی ممالک مثلا ایران ، ترکی اور شام میں موجود کردوں پر غیر مسبوق اثرات چھوڑے گا اور یہ لوگ بھی اپنے قومی حقوق حاصل کرنے پر بھرپور اصرار کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں