.

آنے والے مہینوں میں ٹرمپ پر کاری ضرب لگے گی : پاسداران انقلاب کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد علی جعفری نے بدھ کے روز دھمکی دی ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا پوری "طاقت" سے جواب دے گا۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تہران اپنے خلاف امریکا کے تمام غلط کھاتوں کا جواب دے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایرانی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ امریکی صدر نے باور کرایا کہ تہران میں موجود ایرانی نظام کی کارستانیوں کا نمایاں ترین شکار ایرانی عوام ہیں۔ انہوں نے تہران میں حالیہ نظام کو "قانونی دائرہ کار سے باہر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام "جمہوریت کی آڑ میں چھپنے کی کوشش کرتا ہے"۔

اس کے مقابل پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے ایرانی صدر حسن روحانی سے مطالبہ کیا کہ ٹرمپ کے اس بیان کا "فیصلہ کن اور انقلابی" جواب دیا جائے جس میں امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ ایران نے "بشار الاسد کی آمریت کو مضبوط کیا اور یمن میں جنگ کی قیادت کی"۔

جعفری کے مطابق " ٹرمپ کے سامنے ہمارا فیصلہ کن موقف اس وقت سے شروع ہو چکا ہے اور امریکا کو آئندہ چند ماہ کے دوران درد ناک عملی جواب ملے گا"۔

امریکی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے اپنے خطاب میں تہران اور پیونگ یانگ حکومتوں پر توجہ مرکوز رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی دولت اس وقت حزب اللہ کی فنڈنگ اور مشرق وسطی میں امن کو سبوتاژ کرنے میں استعمال ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے باور کرایا کہ ایرانی حکومت پر لازم ہے کہ وہ دہشت گردی کی سپورٹ روک دے اور اپنے عوام پر توجہ دے۔

ایرانی صدر حسن روحانی بدھ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ اپنے خطاب میں ٹرمپ کے بیانات کا جواب دیں گے اور اپنے ملک کی اندرون اور بیرون متنازع پالیسیوں کا دفاع کریں گے۔