.

افغانستان : محرم کے دوران میں مسلح شہری مساجد کے باہر پہرا دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں سیکڑوں شہریوں کو محرم کے دوران میں مساجد اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے مسلح کیا جارہا ہے۔افغان حکومت نے یہ فیصلہ اہل تشیع کے مذہبی مقامات پر حالیہ تباہ کن بم حملوں کے بعد کیا ہے۔

حکومت اس کے علاوہ مزاحمت کاروں اور جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے بھی بیس ہزار دیہاتیوں کو مسلح کرنے کی تجویز پر بھی غور کررہی ہے۔ مساجد کے غیر معمولی تحفظ کے لیے اس نئے منصوبے کا اعلان نائب صدر دوم سرور دانش کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کیا گیا ہے۔ان دیہاتیوں کے علاوہ محرم کے دورا ن میں اہل تشیع کی عبادت گاہوں کے باہر پولیس اور فوج کی اضافی نفری بھی تعینات کی جائے گی۔

افغانستان میں زیادہ تر آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور اہل تشیع کی تعداد قریباً تیس لاکھ ہے۔حالیہ مہینوں کے دوران میں داعش نے اہل ِتشیع پر متعدد خودکش بم حملے کیے ہیں ۔ان حملوں کا نشانہ بننے والوں نے پولیس اور فوجیوں پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ انھیں تحفظ مہیا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

سرور دانش نے سکیورٹی حکام اور شیعہ لیڈروں کے ساتھ اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’حالیہ بدقسمت واقعات کے بعد لوگوں کو اپنے جان ومال کے تحفظ کے لیے صرف سکیورٹی فورسز پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں کو اپنے اپنے علاقوں میں محرم کے دوران مساجد کا پہرا دینا چاہیے‘‘۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ ویس برمک نے کہا ہے کہ ’’ وزارت نے مساجد کے تحفظ کے لیے جن سیکڑوں افراد کو بھرتی کیا ہے ،ان کی تربیت قریب قریب مکمل ہوگئی ہے اور وہ عبادت گاہوں کے ارد گرد سکیورٹی کے لیے اضافی نفری کے طور پر تعینات ہوں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ نئے بھرتی شدہ افراد میں ہتھیاروں ، تن خواہوں اور دوسرے ضروری وسائل کی تقسیم کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں‘‘۔واضح رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ چودہ ماہ کے دوران میں متعدد بم حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ان بم دھماکوں میں دسیوں شیعہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔