.

الجزائر کی جامعات میں مختصر لباس پہننے پر پابندی عاید

افریقی ملک میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پرنیا ضابطہ اخلاق جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقا کے عرب ملک الجزائر کے محکمہ تعلیم نے جامعات میں زیرتعلیم طلباء طالبات کے لیے تعلیمی سال کے آغاز پر ایک نیا ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے۔ نئے ضابطہ اخلاق کے تحت تمام طلباء طالبات کو مختصر لباس زیب تن کرنے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الجزائری جامعات میں نئے ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد تمام طلباء وطالبات کو سختی کے ساتھ اس پر عمل درآمد کی تاکید کی گئی اور توقع ظاہرکی گئی ہے کہ طلباء پابندیوں سے بچنے کے لیے نئے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق الجزائر میں جامعات کے طلباء کےلیے نئے ضابطہ اخلاق کےبیشتر مظاہر خارجی نوعیت کے ہیں۔ مقصد الجزائر کے قومی اور عرب تشخص کو برقرار رکھنا ہے۔

رواں ماہ کےشروع میں الجزائری وزارت تعلیم وسائنس ریسرچ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر میں جامعات کے سربراہان کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تعلیمی اداروں میں باوقار لباس پہننے کو یقینی بنائیں۔

وزارت تعلیم کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جو طلباء طالبات نئے ضابطہ اخلاق کی پابندی نہیں کریں گے ان کے خلاف جامعات کے وضع کردہ قوانین کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس نئے ضابطہ اخلاق کے بعض اہم نکات کا احوال بھی سامنے آیا جس میں بتایا گیا ہے کہ غیر روایتی طریقے سے حجامت بنوانے، پھٹی پتلون پہننے، موبائل فون اپنے پاس رکھنے، متنازع نوعیت کے کپڑے پہننے اور میک اپ کا سامان اپنے پاس رکھنے پر پابندی ہوگی۔

الجزائر کی طلباء تنظیموں نے اس نئے ضابطہ اخلاق کی حمایت کی ہے تاہم بعض حلقوں کی جانب سےاسے طلباء کی آزادی سلب کرنے کوشش قرار دیا گیا ہے۔