.

ایرانی ٹی وی کی جانب سے ٹرمپ کے خطاب کے ترجمے میں تحریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سرکاری ٹی وی "خبر" نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے ترجمے میں تحریف کر ڈالی۔ عوامی سرگرم حلقوں کے مطابق یہ حرکت عوام کو گمراہ کرنے ، حقائق میں جعل سازی کرنے اور ایرانی نظام کے مفاد میں دنیا بھر سے متعلق جھوٹی خبریں بنا کر پیش کرنے کے سیاق میں ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی "فارسی" سروس نے ترجمے کے اندر تحریف شدہ جملوں اور عبارتوں کو نکال لیا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی "خبر" پر ٹرمپ کے خطاب کا فوری ترجمہ اچھے انداز سے چل رہا تھا لیکن جب ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بات شروع کی تو مترجم نے مضمون کی عبارتوں کو اس انداز سے تبدیل کر دیا کہ ان سے ایرانی نظام کو ضرر نہ پہنچے۔ ٹرمپ نے کہا کہ "دنیا بھر کی قوموں کو چاہیے کہ وہ اس بدمعاش حکومت کا مقابلہ کریں"۔ ایرانی ٹی وی نے اس کا ترجمہ یُوں کیا کہ "ہمارے دیگر ممالک کے ساتھ کچھ مسائل ہیں"۔

اسی طرح جب ٹرمپ نے کہا کہ "اس حکومت نے تاریخ اور ثقافت سے مالا مال ملک کو تنہا اور اقتصادی طور پر کھوکھلی ریاست میں تبدیل کر دیا" تو اس کا ترجمہ یوں کیا گیا "ایرانی عوام کی معیشت اس سے بہتر ہونا چاہیے"۔

اس کے علاوہ امریکی صدر نے جب یہ کہا کہ "ایران انٹرنیٹ روک لگاتا ہے ، سیٹلائٹ تباہ کرتا ہے ، احتجاج کرنے والے طلبہ کو گولیوں کا نشانہ بناتا ہے اور اصلاح پسندوں کو جیل میں ڈال دیتا ہے"۔ اس پر ایرانی ٹی وی نے محض یہ کہہ دینے پر اکتفا کیا کہ "ایران میں ایسے بہت سے امور ہو رہے ہیں جو ہمیں ناقابل قبول ہیں"۔

خطاب کے ترجمے میں تحریف کے علاوہ ایرانی ٹی وی کے فوری مترجم نے بہت سے ایسے جملوں کو نظر انداز کر دیا جن میں صدر ٹرمپ نے ایرانی نظام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا بالخصوص تہران کی جانب سے دہشت گردی کی سپورٹ اور انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رکھنے کے حوالے سے۔

مکرّر تحریف

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے عالمی سربراہان اور ممالک کے ذمے داران کے خطابوں اور ان سے متعلق خبروں میں تحریف کی ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی "اِرنا" اور ایرانی نیوز ایجنسیوں کی ویب سائٹوں نے اپریل میں تیونسی صدر الباجی قائد السبسی اور الجزائر کے وزیراعظم عبدالملک سلال کے بیانات میں تحریف کر ڈالی تھی۔ گزشہ چند برسوں کے دوران العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جعل سازی کے اس سلسلے کو پکڑا جو اس نے سرکاری اور غیر سرکاری ذمے داران سے منسوب خبروں ، انٹرویوز اور بیانات کے حوالے سے اپنا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ایسے اداروں کے متعلق فرضی اور جھوٹی رپورٹیں بھی تیار کی گئیں جن کا بعض اوقات وجود بھی نہیں تھا۔

گزشتہ برس ستمبر میں جعل سازی کے اس وتیرے نے عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل عمرو موسی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسی طرح ایرانی میڈیا اس سے قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اسپیکر ناصر عبدالعزیز کے شامی بحران کے حوالے سے خطابوں میں بھی تحریف کر چکا ہے۔ مزید برآن سعودی عرب ، خلیجی ممالک اور ان کے ذمے داران کے خلاف بڑی تعداد میں جھوٹی اور من گھڑت رپورٹوں کا سہرا بھی ایرانی میڈیا کے سر ہے۔