.

مصری دوشیزہ نے اپنے دہشت گرد خاندان کا بھانڈہ پھوڑ دیا

مریم کے والدین اور بھائی اخوان اور داعش میں سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج کی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جزیرہ نما سیناء اور بعض دیگر اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اس آپریشن کے دوران شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے جنگجوؤں اور کالعدم تنظیم اخوان المسلمون کے انتہا پسندوں سے نمٹنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔

حال ہی میں ایک محب وطن دوشیزہ نے اپنے خاندان پر ملک کو ترجیح دیتے ہوئے خاندان کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جب سے مریم نامی ایک دو شیزہ کی جانب سے سیکیورٹی اداروں کو اس کے خاندان کے حوالے سے فراہم کی گئی معلومات میڈیا میں آئی ہیں عوامی سطح پر مریم کی حمایت اور ہمدردی میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر بھی مریم کی حمایت اور اسے ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اپنے خاندان بالخصوص اپنے والدین اور بھائیوں کے اخوان المسلمون اور دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ میں سرگرم ہونے کے بارے میں انکشافات کرنے والی مریم عبدالجلیل الصاوی پر مصری قوم کو بجا طور پر فخر ہے۔

جب سے اس نے اپنے خاندان کی حقیقت کا پردہ چاک کیا ہے مریم کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس کی حمایت اور اسے تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات شدت اختیار کرگئے ہیں۔

اس نے سیکیورٹی اداروں کو اپنے خاندان کے دہشت گرد گروپوں بالخصوص داعش اور اخوان میں ملوث ہونے کی تمام دستاویزات فراہم کی ہیں جن میں ویڈیو، آڈیو اور تحریری مواد پر مبنی دستاویزات بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مریم عبدالجلیل نے بتایا کہ اس کے والد ایک اخوانی ہیں جب کہ والدہ اور ایک بھائی داعش سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے بیرونی عناصر کی معاونت سے ایک خفیہ سیل بنا رکھا ہے۔

اس نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں بالخصوص فوج اور پولیس پر حملوں میں اس کے والد، والدہ اور بھائی سب ملوث ہیں۔ اس نے حکام کو ایسی کئی ویڈیوز مہیا کیں جن میں اس کے والد کو فوج اور پولیس کے افسران پر حملوں میں ملوث دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مریم کی والدہ جزیرہ سینا میں سرگرم داعش کے سیل کو لاجسٹک امداد مہیا کرنے کے ساتھ اخوانی دہشت گرد سیل کو بھی معاونت فراہم کرتی پائی گئی ہے۔

مریم نے بتایا کہ سنہ 2013ء میں منتخب صدر محمد مرسی کی سیاسی بساط لپیٹے جانے کے خلاف قاہرہ کے رابعہ العدویہ گراؤنڈ میں احتجاجی دھرنے کا انتظام کرنے والوں میں اس کے والد اور دیگر اہل خانہ پیش پیش تھے۔ پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے وہاں سے اخوان کا دھرنا ختم کردیا تھا۔ اس دھرنے میں سابق صدارتی امیدوار حازم صلاح ابو اسماعیل بھی شامل تھے اور اس کی فنڈنگ اخوان المسلمون کی جانب سے کی گئی تھی۔ مریم کے والد کو فوج اور پولیس افسران پر قاتلانہ حملوں کے الزام میں تین سال قبل گرفتار کر لیا گیا تھا۔

مریم عبدالجلیل نے بتایا کہ اس نے اپنے خاندان کے داعش اور اخوان المسلمون میں سرگرم ہونے کے بارے میں رضاکارانہ طور پر سیکیورٹی اداروں کو معلومات مہیا کی ہیں۔ اس نے اپنے خاندان پر ملک کی سلامتی کو ترجیح دی ہے۔ اس کے والدین اور بھائیوں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی جتنی بھی ریکارڈ شدہ چیزیں موجود تھیں وہ سب پولیس کو فراہم کردی گئی ہیں۔

مریم کے خاندان کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد میں ان کے ٹیلفون پر باہمی رابطے، دہشت گردوں کی سہولت کاری کے طریقے، اخوان المسلمون کے خفیہ سیل کی معاونت، شدت پسندوں کو اسلحہ اور رقوم مہیا کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مراکز پرحملوں کی تفصیلات شامل ہیں۔