.

نیوکلیئر معاہدے پر "نظرِ ثانی" کی جانی چاہیے : ٹیلرسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران کو نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے دوبارہ مذاکرات پر قائل کرنے کے لیے اپنے حلیفوں کی سپورٹ حاصل کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔

امریکی چینل فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس سپورٹ کی ضرورت ہے خواہ وہ ہمارے یورپی حلیفوں کی جانب سے ہو یا پھر دیگر حلیفوں کی طرف سے تا کہ ہم ایرانیوں کو بھی واضح کر سکیں کہ اس معاہدے پر واقعتا نظر ثانی کی ضرورت ہے"۔

ٹیلرسن کا یہ بیان ان کی اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظريف اور نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر پانچ ممالک کے وزراء خارجہ کے ساتھ ملاقات سے کچھ دیر قبل سامنے آیا۔ یہ پانچ ممالک برطانیہ ، چین ، فرانس ، جرمنی اور روس ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے اپنے اولین خطاب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اس معاہدے سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں جس کو انہوں نے امریکا کی تاریخ کے بدترین معاہدوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایو لو دریاں نے رواں ہفتے مذکورہ معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے تجویز پیش کی تھی کہ ایران پر سے یورینیئم کی افزودگی پر عائد بعض پابندیاں اٹھانے کے واسطے 2025 کا سال متعین کرنے کی شرط کے حوالے سے مذاکرات شروع کیے جائیں۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ان پابندیوں کو اٹھانے کے وقت کا تعین کرنا ہی "سب سے بڑا واضح خلل" ہے۔ ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ "یہ معاہدہ پورے طریقے سے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی رفتار کو آہستہ کرنے کے لیے کافی نہیں"۔