ایران میں جبری گم شدگیوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں زیربحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنیوا میں جاری اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں ایران میں پولیس اور فوج کے ہاتھوں جبری طور پر اغواء کردہ شہریوں کے معاملے پر بھی بحث کی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کونسل کے 36 ویں اجلاس کے موقع پر ایران میں گم شدہ افراد کا معاملہ اٹھایا گیا۔ اجلاس کے دوران ایران میں درجنوں افراد کی گم شدگی اور ان کے انجام کے بارے میں کسی قسم کی اطلاعات فراہم نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہارکیا گیا۔

اس موقع پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’UNPO‘ نے ’جبری گم شدگیاں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران میں عرب اکثریتی علاقے اھواز، کرد اور بلوچستان کی نمائندہ تنظیموں کے کارکنوں کی بڑی تعداد کو جبری اغواء کے بعد غائب کردیا گیا ہے۔

جبری گم شدہ افراد سے متعلق اجلاس کی صدارت تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فرنیڈو بورجیہ نے کی۔ انہوں نے اجلاس کے افتتاحی خطاب میں کہا کہ انسانی حقوق کے ادارے یورپی یونین کے ارکان پارلیمان سے بھی اس معاملے پر بات چیت کررہے ہیں۔ ہم دنیا پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایران میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری ہے۔ لوگوں کو اغواء کے بعد غائب کردیا جاتا ہے اور ان کے زندہ یا مردہ ہونے کی کوئی خبر نہیں دی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی اور یورپی ارکان پارلیمان کی ملاقاتوں سے قبل اس بات پر توجہ مرکوز کیے جانے کی ضرورت ہے کہ ایران صرف فارسی بولنے والوں کا ملک نہیں بلکہ فارسی بولنے والوں کو ایران میں غلبہ بھی حاصل نہیں۔ ایران ایک کثیر قومی ملک ہے جس میں کئی مذاہب، ثقافتوں، زبانوں اور نسلوں کے لوگو آباد ہیں مگر ریاستی نظام ظلم کی بنیاد پرقائم ہے جو صرف ایک طبقے کی نمائندگی کرتا اور دیگر طبقات کو ریاست مخالف سمجھتا ہے۔

اس موقع پر ایرانی کردستان کی ایک تنظیم ’کوملہ‘ کے بیشکوہ خسروی نے بتایا کہ ایرانی پولیس نے تنظیم کے ایک سرکردہ رہ نما رامین حسین بناھی کو گولیاں مار کر زخمی کیا اور اس کے بعد اسے خاندان کے دیگر 20 افراد کے بعد اغواء کرلیا۔ جبری طور پر اٹھائے گئے ان لوگوں کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں