.

استنبول: شامی اپوزیشن کی خاتون کارکن اور ان کی بیٹی کا قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بشار حکومت کی مخالف معروف شامی لکھارن عروبہ برکات اور ان کی بیٹی حلا برکات کو ترکی کے شہر استنبول میں قتل کر دیا گیا ہے۔ ترکی کی پولیس کو جمعرات کی شب دونوں ماں بیٹی کی لاشیں اسکوڈر کے علاقے میں واقع ان کے فلیٹ سے ملی ہیں۔ عروبہ کی بیٹی حلا ایک میڈیا پَرسن ہیں۔

پولیس کی جانب سے ابھی تک واقعے کی تفصیلات کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

شامی کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے عروبہ برکات اور ان کی بیٹی کی اندوہ ناک موت پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ عروبہ کی ہمشیرہ شذی برکات نے فیس بک پر اپنے صفحے پر لکھا ہے کہ ظلم اور سرکشی کے ہاتھ نے استنبول میں ان کی بہن ڈاکٹر عروبہ برکات اور بھانجی حلا برکات کو چاقو کے واروں کے ذریعے ان کے فلیٹ میں موت کے گھاٹ اتار دیا"۔

شذی کے مطابق ان کی بہن گزشتہ چالیس برسوں سے اخبار کے پہلے صفحے پر کالم لکھ رہی تھیں جن میں وہ مجرموں کا تعاقب کر کے ان کا چہرہ بے نقاب کیا کرتی تھیں.. اور آج ان کی بہن اور بھانجی کے قتل کی خبر اخبار کے پہلے صفحے پر موجود ہے۔

شذی نے اپنی بہن کے تعزیتی اجتماع میں شام کی حکمراں بعث پارٹی کی حکومت کو عروبہ برکات کے قتل کا مورودِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ "اس نظام نے میری بہن کو اسّی کی دہائی سے بے گھر کر رکھا تھا اور بالآخر ایک اجنبی سرزمین پر اس کو موت کی نیند سلا دیا"۔

یاد رہے کہ عروبہ برکات شامی حکومت کی مخالف شامی کارکن تھیں جو ماضی میں اپوزیشن کی قومی کونسل میں شامل ہو گئی تھیں۔ وہ شامی انقلاب کی حمایت کے حوالے سے اپنے موقف کے سبب جانی جاتی تھیں۔ ان کی بیٹی حلا شامی ادارے "اوریئنٹ" فاؤنڈیشن میں بطور صحافیہ کام کر رہی تھیں۔

عروبہ برکات اور ان کی بیٹی کے قتل نے لوگوں کے ذہنوں میں ہلاکتوں کی کئی مماثل کارروائیوں کو یاد دلا دیا جن میں ترکی میں شامی اپوزیشن کی شخصیات کو لپیٹ میں لیا گیا۔ ان میں نمایاں ترین ہلاکت شامی سرحد کے نزدیک ترکی کے شہر غازی عنتاب میں ناجی الجرف اور زاہر الشرقاط کا قتل ہے۔