.

سلامتی کونسل نے کردستان ریفرنڈم کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز عراقی کردستان کی علاحدگی کے حوالے سے اُس ریفرنڈم کے لیے اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے جو اربیل حکومت پیر کے روز کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سلامتی کونسل نے اپنے تمام 15 ارکان کے اتفاقِ رائے سے جاری بیان میں خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کا یک طرفہ اقدام عدم استحکام کا باعث بنے گا۔ کونسل نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو دُہرایا کہ وہ عراق کی سیادت ، وحدت اور اس کی اراضی کی سلامتی کے حوالے سے اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے۔

دوسری جانب عراق ، ایران اور ترکی کے وزراء خارجہ نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ خود مختاری ریفرنڈم کے حوالے سے پیش رفت جاری رکھنے کی صورت میں کردستان کے خلاف اقدامات زیرِ غور آئیں گے۔ یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کارروائیوں کے ضمن میں مذکورہ تینوں ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے بعد سامنے آئی۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن خبردار کر چکے ہیں کہ مخالف اقدامات پابندیاں عائد کرنے تک بھی جا سکتے ہیں۔

اس سے قبل عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے بھی عندیہ دیا تھا کہ اگر اربیل حکومت نے ریفرنڈم کے نتائج نافذ کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور ریفرنڈم کے نتائج دیگر نسلی قومیتوں کے لیے انارکی اور انتشار کا باعث بنا تو بغداد حکومت کردستان ریجن کے خلاف عسکری مداخلت کر سکتی ہے۔

ادھر سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں عراق کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا گیا کہ عوام کے تمام تر مفادات کو پورا کرنے کے واسطے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ بیان میں باور کرایا گیا کہ مذاکرات سے عراق میں امن و سلامتی کو ضمانت حاصل ہو گی اور اس کی وحدت اور خود مختاری کو بھی تحفظ حاصل ہو گا۔

سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں عراقی فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دستخط شدہ معاہدوں اور عراقی آئین کے مندرجات کی طرف لوٹیں۔ بیان کے مطابق کردستان میں ریفرنڈم کے نہ ہونے سے عراق اور خطہ بہت سے خطرات سے اجتناب میں کامیاب ہو جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت اس وقت صدر بارزانی کی دانش مندی کی راہ دیکھ رہی ہے کہ وہ کردستان کی علاحدگی کے حوالے سے ریفرنڈم نہ کرائیں۔

یاد رہے کہ کردستان کے صدر مسعود بارزانی کی جانب سے ریفرنڈم کے حوالے سے یقین دہانی اور اس کے حقیقی متبادل کے حصول کے لیے بغداد حکومت کو دی گئی مہلت آج جمعے کے روز ختم ہو رہی ہے۔ عربی روزنامے الحیات کے مطابق عراقی حکومت کردستان کی جانب سے ریفرنڈم روکنے یا کم از کم کرکوک اور دیگر متنازع علاقوں کو ریفرنڈم میں شامل نہ کرنے کے حوالے سے حتمی اعلان کی منتظر ہے۔

واضح رہے کہ عالمی برادری کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات کا ابھی تک کردستان کی قیادت پر کوئی اثر نظر نہیں آیا ہے۔ کردستان کے صدر مسعود بارزانی ایک مرتبہ پھر سے اس بات پر مصر ہیں کہ وہ ریفرنڈم کی طرف جائیں گے۔ انہوں نے کرد عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 25 ستمبر کو اُن کے ووٹ دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیں گے تا کہ وہ خود مختاری کے حوالے سے کردوں کی خواہش کو جان لے۔