اخوان کے رہنما محمد مہدی عاکف دوران اسیری 'زندگی کی قید' سے آزاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی سب سے بڑی دینی اور سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے سابق مرشد عام محمد مہدی عاکف دوران حراست نامناسب طبی سہولیات کے باعث انتقال کر گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق مرشد عام محمد مہدی عاکف کی بیٹی علیاء عاکف نے ’فیس بک‘ پر پوسٹ ایک بیان میں بتایا کہ اس کے والد قاہرہ کے القصر العینی اسپتال میں زیرعلاج تھے جہاں وہ گذشتہ روز 89 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہیں جیل سے چند روز قبل طبیعت بگڑنے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ مرحوم کے اہل خانہ نے الزام عاید کیا ہے کہ جیل میں سابق مرشد عام پر تشدد کیا گیا اور صحت خراب ہونے کے بعد بھی انہیں طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔

مہدی عاکف پیرانہ سالی کی وجہ سے کئی امراض کا شکار تھے۔ ان کی صحت خراب ہونے کے بعد انہیں اسپتال لایا گیا تھا۔

سابق مرشد عام کو 19 جنوری 2017ء کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ ایک ہی وقت میں کینسر، پروسٹیٹ میں سوزش اور دل کے پھٹوں کی کمزوری کا شکار تھے۔

مہدی عاکف کو مصری پولیس نے سنہ 2013ء کو قاہرہ کے رابعہ العدویہ گراؤند میں اس وقت کے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے خلاف احتجاجی دھرنا دینے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر ملک میں تشدد کو ہوا دینے، ریاست کے خلاف لڑنے اور دیگر الزامات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم اپیل کورٹ نے انہیں سنائی گئی تمام سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے از سرنو ان کے ٹرائل کا حکم دیا تھا۔

محمد مہدی عاکف زندگی میں متعدد بار جیلوں میں ڈالے گئے جس کی وجہ سے انہیں "سجین کل العصور" یعنی ہر دور کا قیدی کہا جاتا تھا۔ ان کے خلاف ملک کے خلاف تشدد کو ہوا دینے سے دیگر ریاست مخالف سرگرمیوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔ انہیں سنہ 2004ء کو جماعت کے مرشد عام مامون الھضیبی کی وفات کے بعد اخوان المسلمون کا مرشد عام مقرر کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں