امریکا کی دھمکیاں نظر انداز ، ایران کا درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے کی تنسیخ اور نئی پابندیاں عاید کرنے کی دھمکیوں کے باوجود درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ایک نئے میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے ہفتے کے روز اس نئے خرم شہر میزائل کو چھوڑنے کی فوٹیج نشر کی ہے۔قبل ازیں جمعہ کو اس میزائل کی اعلیٰ فوجی پریڈ کے دوران میں نمائش کی گئی تھی۔سرکاری ٹی وی نے اس میزائل کے تجربے کی تاریخ نہیں بتائی ہے لیکن گذشتہ روز ایرانی حکام نے کہا تھا کہ اس کا بہت جلد تجربہ کیا جائے گا۔

امریکا نے اس سے پہلے میزائل تجربات کے ردعمل میں ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کردی تھیں اور اس پر جولائی 2015ء میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حالیہ بیانات میں اس جوہری معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنے میزائل پروگرام کی وجہ سے جوہری ہتھیاروں کو ہدف تک لے جانے کے نظام کا بھی مکمل تجربہ ہوجائے گا اور جب اس معاہدے کی 2025ء میں مدت ختم ہوگی تو وہ جوہری ہتھیاروں کو ہدف تک پہنچانے کی جان کاری اور تجربے کا حامل ہوچکا ہوگا۔

امریکی صدر 15 اکتوبر کو کانگریس کو اس امر کی رپورٹ دیں گے کہ آیا ایران جوہرے معاہدے کی پاسداری کررہا ہے یا نہیں۔اگر وہ یہ رپورٹ دیتے ہیں کہ ایران جوہری معاہدے کی پاسداری نہیں کررہا ہے تو پھر اس کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کی راہ ہموار ہو جائے گی اور یوں یہ تاریخی معاہدہ ختم ہوسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ انھوں نے ایران کے جوہری معاہدے کے بارے میں ایک فیصلہ کر لیا ہے ۔تاہم انھوں نے اس فیصلے کو صیغہ راز ہی میں رکھا ہے اور ایک صحافی کے سوال پوچھنے پر بھی یہ نہیں بتایا ہے کہ انھوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں