برطانیہ میں قطر کی جانب سے انتہاپسندی کی مالی معاونت کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یورپ اور برطانیہ میں عرب تنظیم برائے انسانی حقوق ( اے او ایچ آر) نے خیراتی کام ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عطیات اور امدادی سرگرمیوں کے نام پر انتہا پسندگروپوں کومالی امداد دینے پر قطری حکام کی مذمت کی ہے۔

اس تنظیم نے برطانیہ میں خیراتی اور امدادی سرگرمیوں کی تحقیقات کرنے والی کمیٹیوں اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات کے نتائج کو جلد سے جلد منظرعام پر لائیں اور قطر کے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مالی معاونت کے لیے کردار کو مکمل شفاف انداز میں اجاگر کریں تاکہ برطانوی عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کو یہ پتا چل سکے کہ قطر خیراتی کاموں کے نام پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مالی امداد کرتا رہا ہے۔

عرب تنظیم برائے انسانی حقوق کے چیئرمین عبدالرحمان نوفل نے بتایا ہے کہ ان کی تنظیم نے حال ہی میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے چھتیسویں سالانہ اجلاس میں شرکت کی ہے اور اس نے وہاں ’’ نیو یورپ‘‘ کے نام سے رپورٹ کو شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دنیا کو لندن سے تعلق رکھنے والے ایک مشتبہ خیراتی ادارے کی مالی امداد کے بارے میں پتا چل سکے۔اس تنظیم کی سرگرمیوں سے متعلق متعدد ممالک میں تحقیقات کی گئی ہے اور ان سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا انتہا پسندی سے تعلق رہا ہے۔

برطانیہ میں مسلم ایڈ نامی اس خیراتی ادارے کو قطر کی جانب سے دس لاکھ یورو کی مالی امداد دینے کی تحقیقات کی گئی ہے ۔ نیو یورو رپورٹ کے مطابق ماضی میں تنظیم کی سرگرمیوں کے حوالے سے برطانیہ ، ویلز ، اسپین اور بنگلہ دیش میں دہشت گرد تحریکوں کو رقوم مہیا کرنے کے الزامات میں تحقیقات کی جاچکی ہے۔

ایک اور رپورٹ میں یورپی کمیشن کی جانب سے اس خیراتی تنظیم کو ایک کروڑ چالیس لاکھ یورو کی رقم دینے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یورپی کمیشن نے 2011ء سے 2014ء تک اس تنظیم کو یہ رقم اقساط کی شکل میں دی تھی۔

اے او ایچ آر کے سربراہ نوفل نے برطانوی حکومت اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قطر کی مالی امداد سے چلنے والے ان اداروں پر فوری طور پر قانون کا اطلاق کریں اور خطے کے عوام کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے اس کام میں مزید تاخیر نہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں