ایران میں سرکردہ اپوزیشن رہ نماؤں کی سزائے موت کی تیاری!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس شعبے کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی رجیم دو سرکردہ اپوزیشن رہ نماؤں مہدی کروبی اور میر حسین موسوی کے ٹرائل کے بعد انہیں پھانسی دینے یا کم سے کم عمر قید کی سزا دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس اہلکار جنرل حسین نجات نے ایک ایرانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حکومت سبز انقلاب تحریک کے دو سرکردہ قائدین مہدی کروبی اور میر حسین موسوی کے ٹرائل کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ انہیں سزائے موت یا کم سے کم عمر قید کی سزا سنائی جا سکے۔

خیال رہے کہ میر حسین موسوی اور مہدی کروبی دونوں کئی سال سے اپنے گھروں پر نظر بند ہیں۔

جنرل نجات نے کہا کہ اگر میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کا ٹرائل شروع ہوتا ہے تو ان کی نظر بندی ختم کر دی جائے گی۔ اس حوالے سے اعلیٰ قومی سلامتی کمیٹی میں بھی غور کیا گیا ہے۔

مہدی کروبی ایرانی پارلیمنٹ کے تین بار اسپیکر رہ چکے ہیں جب کہ میر حسین موسوی ایران کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ دونوں 2011ء سے اپنے گھروں پر نظر بند ہیں۔ ایرانی حکومت سبز انقلاب تحریک چلانے کی پاداش میں انہیں مسلسل نظر بند رکھے ہوئے ہے۔ ان پر الزام ہے کہ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف انہوں نے بڑے پیمانے پر ملک میں پرتشدد مظاہرے کیے تھے۔

میر حسین موسوی اور مہدی کروبی نے الزام عاید کیا تھا کہ 2009ء کے صدارتی انتخابات میں سرکاری سرپرستی میں دھاندلی کرائی گئی۔ دھاندلی کے نتیجے میں محمود احمدی نژاد ملک کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے۔

ایرانی انٹیلی جنس عہدیدار نے کہا کہ حکومت نے نظر بند رہ نماؤں کے سامنے رہائی کے لیے سنہ 2009ء کے مظاہروں کی معافی مانگنے کی شرط رکھی تھی مگر انہوں نے معافی مانگے سے انکار کرتے ہوئے اپنے موقف پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

جنرل نجات کا کہنا ہے کہ اگر مہدی کروبی اور میر حسین موسوی سے جبری نظربندی اٹھائی جاتی ہے تو اس سے ان کے خلاف ٹرائل کی راہ ہموار ہوگی اور ان کا معاملہ عدالت کو منتقل کیا جائے گا۔ عدالت کی طرف سے انہیں سزائے موت یا کم سے کم عمر قید کی سزا کا قوی امکان موجود ہے۔

واضح رہے کہ مہدی کروبی نے 25 اگست کو اپنی طویل بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔ انہوں نے گھر پر فوج اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی تعیناتی کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ حکومت نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے گھر سے فوج ہٹا دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں