.

ایران کی عراقی کردستان کی سرحد کے نزدیک فوجی مشقیں

ترک طیاروں کی شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج نے عراق کے خود مختار علاقے کردستان میں آزادی ریفرینڈم کے انعقاد سے صرف ایک روز قبل اس کی سرحد کے نزدیک جنگی مشقیں شروع کردی ہیں اور ترکی نے اتوار کو یہ اطلاع دی ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے شمالی عراق میں کالعدم کرد علاحدگی پسند جماعت کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی اطلاع کے مطابق مسلح افواج اوشنویح کے سرحدی علاقے میں فوجی مشقیں کررہی ہیں اور یہ عراق کے ساتھ 1980ء سے 1988ء تک لڑ ی گئی جنگ کے آغاز کی تاریخ پر ہر سال کی جاتی ہیں۔ جنگی مشقوں میں مسلح افواج کا توپ خانہ ، آرمرڈ اور فضائی یونٹس حصہ لے رہے ہیں۔

اس سرحدی علاقے میں ایرانی سکیورٹی فورسز کی شمالی عراق میں چھپنے والے اپنے ملک کے کرد جنگجو گروپوں کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ایرانی کرد جنگجوؤں نے بھی ترکی سے تعلق رکھنے والے کرد جنگجوؤں کی طرح عراق کے شمال میں واقع پہاڑی علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔

ترک طیاروں کے پی کے کے ٹھکانوں پر حملے

ترک فوج نے اتوار کو انقرہ میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے شمالی عراق میں کالعدم پی کے کے کے ٹھکانوں ،اس کے کمانڈروں کے زیر استعمال غاروں اور جنگی پوزیشنوں کو فضائی بمباری کر کے تباہ کردیا ہے۔

ترکی کے لڑاکا طیارے آئے دن شمالی عراق میں پی کے کے کے ٹھکانوں پر اس طرح کے حملے کرتے رہتے ہیں۔شمالی عراق میں قندیل کے پہاڑی سلسلے میں اس کالعدم جماعت کے جنگجو کمانڈروں نے اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔

قبل ازیں ترکی کی پارلیمان نے ہفتے کے روز عراق اور شام میں مزید ایک سال تک اپنے فوجیوں کو تعینات رکھنے کی منظوری دی تھی۔

پی کے کے کے جنگجو 1984ء سے ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں جنگی کارروائیاں کررہے ہیں۔تب سے اب تک کرد جنگجوؤں کے حملوں اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں میں چالیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ترکی ، امریکا اور یورپی یونین نے اس کرد جماعت کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔