.

سوڈان : پولیس اہلکار کےقتل پر یونیورسٹی طالب علم کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں ایک عدالت نے ایک پولیس اہلکار کے قتل کے الزام میں گرفتار یونیورسٹی کے طالب علم کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

عاصم عمر جامعہ خرطوم میں زیر تعلیم تھا اور اس کو دسمبر 2016ء میں احتجاجی مظاہرے کے دوران میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔گذشتہ سال اپریل میں دریائے نیلا نیل کے کنارے واقع جامعہ خرطوم کے کیمپس میں سیکڑوں طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

وکیل صفائی محمد عربی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ عدالت نے گذشتہ ماہ عاصم عمر کے خلاف پولیس اہلکار کے قتل کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی اور اتوار کو اس کو پھانسی دینے کا حکم دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ اس سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔

آج فیصلہ سنائے جانے کے وقت طلبہ کی ایک بڑی تعداد بھی عدالت کے باہر جمع ہو گئی تھی مگر پولیس نے انھیں اشک آور گیس کے گولے پھینک کر منتشر کردیا۔اس کے بعد طلبہ نے جامعہ خرطوم کے آس پاس بھی مظاہرے کیے ہیں مگر انھیں وہاں سے بھی منتشر کردیا گیا۔

سوڈان کی حزب اختلاف کی جماعت پاپولر کانگریس پارٹی نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عاصم عمر کو غیر قانونی طور پر سزا سنائی گئی ہے کیونکہ جج کے پاس اس کو مجرم ٹھہرانے کے لیے مکمل شہادت نہیں تھی۔

عاصم عمر اسی جماعت کے رکن ہیں۔کانگریس پارٹی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’ ہم اعلیٰ عدالت میں اپنی جنگ جاری رکھیں گے اور اس کی جان بچانے کے لیے تمام متبادل راستے ہمارے لیے کھلے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال کے دوران میں جامعہ خرطوم کے طلبہ نے اپنی مادر علمی کی عمارتیں فروخت کرنے کے مبینہ منصوبے کے خلاف متعدد مرتبہ احتجاجی مظاہرے کیے تھے لیکن پولیس انھیں اشک آور گیس کی شیلنگ سے منتشر کردیتی تھی۔حکومت نے اس الزام کی تردید کی تھی کہ وہ یونیورسٹی کی عمارات کو فروخت کرنے کا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔

دریں اثناء سوڈان سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے معروف کارکن مضاوی ابراہیم آدم نے کہا ہے کہ جج کے اس فیصلے سے ملک اور عدلیہ کا تشخص مجروح ہوگا۔