.

ایران نے عراقی کردستان کے ساتھ زمینی اور فضائی سرحدیں بند کردیں

عراقی کردستان میں آزادی کے نام پر ہونے والا ریفرینڈم غیر قانونی اور غیر آئینی ہے: ترجمان وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے عراقی کردستان میں آزادی ریفرینڈم کے انعقاد کے ردعمل میں اس علاقے کے ساتھ اپنی سرحد بند کردی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ ہم نے عراقی حکومت کی درخواست پر عراقی کردستان کے ساتھ اپنی زمینی اور فضائی سرحدوں کو بند کردیا ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ عراقی کردستان میں آزادی کے نام پر آج ہونے والا ریفرینڈم غیر قانونی اور غیر آئینی ہے‘‘۔ایران نے قبل ازیں اتوار کو ریفرینڈم کے ردعمل میں عراقی کردستان کے لیے تمام پروازیں بند کرنے کا ا علان کیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اتوار کی شب عراقی وزیراعظم حیدر العبادی سے فون پر گفتگو کی تھی اور انھوں نے کہا تھا کہ ’’ اسلامی جمہوریہ ایران عراق کی مرکزی حکومت کی مکمل حمایت کرتا ہے‘‘۔

ایران کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ آزادی ریفرینڈم کے بعد اس کے اپنے کرد علاقے میں علاحدگی پسندی کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے اور عراقی کردستان کی آزادی کا مطلب تمام سرحدی اور سکیورٹی انتظامات کا خاتمہ ہوگا۔

کردستان کی علاقائی حکومت بغداد حکومت ، ترکی ، ایران ، اقوام متحدہ ، امریکا اور برطانیہ کی مخالفت کے باوجود آزادی کے نام پر یہ ریفرینڈم منعقد کرا رہی ہے اور اس نے ان ممالک کی اپیلوں کے باوجود اس ریفرینڈم کو موخر نہیں کیا تھا۔تاہم عراقی کرد لیڈر مسعود بارزانی یہ کہہ چکے ہیں کہ ریفرینڈم میں ’’ ہاں‘‘ میں ووٹ کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ فوری طور پر عراق سے آزادی کا اعلان کردیا جائے گا بلکہ اس کے بعد تو بغداد کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

ترکی کو بھی یہ خدشہ لاحق ہے کہ عراقی کردستان کی سرحد کے ساتھ واقع اس کے کرد اکثریتی علاقوں میں علاحدگی کی تحریک زور پکڑ سکتی ہے۔مسلح کرد علاحدگی پسند پہلے ہی مرکزی حکومت کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں اور وہ آئے دن سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔