.

برطانیہ: اسلامی مرکز کی مسجد کے امام پر قاتلانہ حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے شمال مغرب میں "گریٹر مانچسٹر" کے علاقے میں ایک مسلمان آرتھوپیڈک سرجن کو اسلامی مرکز کے باہر چاقو کے ذریعے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ سرجن کا نام ناصر کُردی ہے برطانوی قصبےAltrincham میں اپنی بیوی اور تین بچوں 22 سالہ اسماء ، 19 سالہ محمد اور 13 سالہ احمد کے ساتھ سکونت پذیر ہے۔ وہ Altrincham کے اسلامی مرکز میں باجماعت نماز کی امامت بھی کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 57 سالہ ناصر کردی اتوار کے روز نماز کی امامت کے لیے جب اسلامی مرکز پہنچا تو ایک نا معلوم شخص نے پیچھے سے اس کی گردن پر چاقو کا وار کیا اور فورا فرار ہو گیا۔ ناصر کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

برطانوی اخبار Manchester Evening News کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ناصر پر حملہ کرنے والے شخص نے چاقو کا وار کرنے کے دوران اسلام مخالف الفاظ ادا کیے۔ اتوار کی شام چھ بجے پیش آنے والے واقعے کے نتیجے میں کُرد سرجن کی گردن میں تین سینٹی میٹر گہرا زخم آیا۔

برطانوی پولیس نے واقعے کے بعد مقامی آبادی سے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا جن کی عمریں 32 اور 54 سال ہیں۔ اسلامی مرکز کی مسجد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "گریٹر مانچسٹر کے علاقے میں اس طرح کی مجرمانہ کارروائی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی"۔ ترجمان نے اس حملے کو نسلی بنیاد پر قاتلانہ حملے کی کوشش قرار دیا۔

البتہ اسلامی مرکز کے سکریٹری امجد لطیف کا کہنا ہے کہ مرکز میں اسلامی سوسائٹی کے دفتر کو گزشتہ کئی ماہ سے نسلی بنیادوں پر حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور رواں سال اپریل سے اب تک چار مرتبہ دفتر کے شیشے توڑے جا چکے ہیں۔