سفری پابندیوں سے متعلق نیا امریکی فرمان، مزید ممالک شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی انتظامیہ نے اتوار کے روز ہجرت اور نقل مکانی کے حوالے سے ایک نیا فرمان جاری کیا ہے جس میں بعض ممالک کے شہریوں پر پابندی کو سخت کرنے کے علاوہ بعض مزید ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے.. جب کہ سوڈان کا نام نئی فہرست میں سے نکال دیا گیا ہے۔

نئے فرمان میں 8 ممالک کے شہریوں پر امریکا کے سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ فہرست میں شمالی کوریا ، وینزویلا اور چاڈ کا اضافہ کیا گیا ہے جب کہ ایران ، لیبیا ، صومالیہ ، یمن اور شام کا نام سابقہ فہرست میں بھی شامل تھا۔

فرمان میں ہر ملک کے لحاظ سے مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ شمالی کوریا اور چاڈ کے تمام شہریوں پر امریکی اراضی میں داخل ہونے پر پابندی لگائی گئی ہے جب کہ وینزویلا سے متعلق پابندی صرف سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ پر لاگو ہو گی۔

عراقیوں کو امریکا میں داخلے کے وقت اضافی معائنے اور جانچ کا سامنا ہو گا تاہم ان پر پابندی نہیں عائد کی گئی۔ نئے اعلان میں سوڈانیوں پر سے امریکا میں داخلے کے حوالے سے عائد پابندی اٹھا لی گئی ہے۔

اس فرمان کے ذریعے امریکا نے ایرانیوں کا اپنی سرزمین میں داخلہ معطل کر دیا ہے البتہ تعلیمی ویزے اور حالیہ طور جاری متبادل دورے اس پابندی سے مستثنی ہوں گے۔

امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شمالی کوریا کسی طور بھی امریکی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے اور معلومات کے تبادلے سے متعلق تمام مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

نئے فرمان میں سامنے آنے والی پابندیوں کا اطلاق 18 اکتوبر سے ہو گا۔ ان کا اعلان اتوار کی شام حالیہ پابندیوں کی مدت ختم ہونے کے موقع پر کیا گیا ہے۔

فرمان جاری ہونے کے کچھ دیر بعد صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ "امریکا کو محفوظ بنانا پہلی ترجیح ہے۔ اہم اپنے ملک میں ایسے لوگوں کو داخل نہیں کریں گے جن کی ہم محفوظ طریقے سے جانچ نہیں کر سکتے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں