.

ایران میں پہلی بار روسی ساختہ ’ایس 300‘ میزائلوں کی نمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے عراق ۔ ایران جنگ مناسبت سے منعقدہ ایک ملٹری پریڈ کے موقع پر روسی ساختہ ’ایس 300‘ میزائلوں کی پہلی بار نمائش کی ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں منعقدہ اس نمائش میں ایران کے دیگر مقامی سطح پر تیار کردہ میزائل بھی دکھائے گئے۔ یہ نمائش اور ملٹری پریڈ ایک ایسے وقت میں منعقد کی گئی ہے جب تہران پر اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو روکنے کے لیے عالمی برادری کا غیرمعمولی دباؤ بھی موجود ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مبصرین اورماہرین دفاع کا کہنا ہے کہ ایران روس سے حاصل کردہ ’ایس 300‘ میزائلوں کی نمائش کرکے عالمی برادری کو چیلنج کررہا ہے۔ دارالحکومت تہران کے بہارستان گراؤنڈ میں ایک ہفتے کے لیے اسلحہ اور جنگی ہتھیاروں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس نمائش میں روس سے خریدے گئے ایئر ڈیفنس شیڈ سسٹم اور ’ایس 300‘ میزائلوں کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر تیار کردہ میزائلوں، بحریہ کے جنگی ہتھیار اور دیگر دفاعی آلات کی نمائش کی جا رہی ہے۔

ایران کی جانب سے تباہ کن ہتھیاروں کی یہ نمائش ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب تین روز قبل تہران کی طرف سے کیے گئے بیلسٹک میزائل تجربے کے بعد امریکا، فرانس اور برطانیہ نے ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تینوں بڑے ملکوں کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائل کا تجربہ جون 2015ء کو سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ قرارداد 2231 کی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنا جوہری پروگرام روک بیک کرتے ہوئے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کا سلسلہ منجمد کردے۔

ایران نے ہفتے کے روز ’خرمشہر‘ نامی ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ یہ میزائل ہرقسم کے جوہری وار ہیڈ کے ساتھ 2000 کلو میٹر کے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکا، فرانس اور برطانیہ نے اس تجربے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا ہے۔