مصر: اخوان المسلمون کے مُرشدِعام کو ایک اور عمرقید کی سزا

تشدد کے واقعات میں ماخوذ اخوان کے 93کارکنان اور حامیوں کو عمر قید اور 15،15 سال قید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی ایک عدالت نے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے مُرشدِ عام محمد بدیع سمیت سولہ افراد کو تشدد کے واقعات میں ملوّث ہونے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

محمد بدیع کو اس سے قبل مختلف مقدمات میں متعدد مرتبہ عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ وہ 2013ء سے قید ہیں اور انھیں ایک مقدمے میں سزائے موت بھی ہوچکی ہے۔ان پر لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور ریاست کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

جمعرات کو عدالت نے77 اور مدعا علیہان کو ان ہی الزامات میں 15،15 سال قید کی سزا ئیں سنائی ہیں۔ان پر قاہرہ کے جنوب میں واقع ایک شہر میں پولیس کی ایک گاڑی پر بھی حملے کا الزام تھا۔

عدالت میں کل 93 مدعا علیہان میں سے 12 کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلا یا گیا ہے جبکہ 67 مفرور ہیں۔ تمام سزا یافتگان عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل ( اور موجودہ صدر) عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی 2013ء کو مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ان کی برطرفی کے بعد فوج کی نگرانی میں قائم حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں بیس ہزار سے زیادہ سیاسی ومذہبی کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ان میں اخوان المسلمون کی تمام ادنیٰ و اعلیٰ قیادت شامل تھی۔اخوان کو کالعدم قرار دیا جاچکا ہے اور اس کے قائدین اور کارکنان کے خلاف اب بھی مصر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں