یمنی باغیوں پر متاثرین تک امداد کی رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے ایک بار پھر الزام عاید کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغی اور علی صالح کے وفادار جنگ سے متاثرہ شہریوں تک امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ‘ہیومن رائٹس واچ‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یمنی باغی جنگ سے متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کی کوششوں میں دانستہ رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ امدادی سامان لوٹ لیا جاتا ہے۔ امدادی کارکنوں کو ہراساں کیا جاتا اور متاثرین تک رسائی اور امداد پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ باغیوں کی عاید کردہ پابندیوں کے باعث یمن کے کئی علاقوں میں امدادی آپریشن مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے۔ باغیوں کی کھڑی کی گئی رکاوٹیں امدادی کارکنوں کو آگے بڑھنے اور متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات پیدا کررہی ہیں۔ دوسری طرف متاثرہ شہری خوراک کی شدید قلت کا سامنا کررہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ حوثی اور علی صالح ملیشیا نے تعز کے کئی علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔ ان بارودی سرنگوں کی وجہ سے امدادی کارکن اقوام متحدہ کے امدادی قافلے محصورین تک پہنچنے میں ناکام ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تعز کے کئی علاقے دو سال سے باغیوں کے محاصرے میں ہیں۔ انسانی حقوق گروپ کے مطابق تعز کے مرکزی اسپتال کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حوثی باغیوں اور علی صالح ملیشیا نے 17 اپریل کو اسپتال میں لائے گئے طبی سامان جن میں ادویہ کے دو ٹرک شامل تھے قبضےمیں لے لیے تھے جس کے نتیجے میں اسپتال میں موجود مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں