روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے: گوٹیریس

مزید اڑھائی لاکھ مسلمانوں کی ھجرت کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوٹریس نے جمعرات کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے خبردار کیا ہے کہ میانمار کی مسلم اکثریتی ریاست رخائن میں مقامی مسلمانوں کے خلاف ریاستی تشدد میں کمی نہیں آئی جس کے نتیجے میں تشدد کی لہر شمال سے ریاست کے وسط کی طرف بڑھ رہی ہے۔ خدشہ ہے آنے والے دنوں میں مزید اڑھائی لاکھ روہنگیا مسلمان ملک چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ روہنگیا سے ھجرت کرکے آنے والے بچوں، بوڑھوں اور خواتین کے بیانات سن کر وہاں پر ہونے والے ظلم سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ آٹھ سال سے میانمار میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد حربوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ یو این سیکرٹری جنرل نے برما کے مسلمان پناہ گزینوں کی بحالی اور ان کی مشکلات کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فوری امداد فراہم کرنے پر زور دیا۔

انتونیو گوٹیریس کا کہنا تھا کہ جانیں بچا کر پناہ گزین کیمپوں تک پہنچنے والوں کے بیان چونکا دینے والے ہیں۔ نہتے مسلمانوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہاہے۔ اجتماعی قتل عام کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی کے واقعات بڑے پیمانے پر رونما ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف یو این کی ایک امدادی ٹیم تشدد سے متاثرہ ریاست رخائن میں داخلے کی کوشش ایک بار پھر ناکام ہوگئی ہے۔ یو این حکام کا کہنا ہے کہ برما کے حکام نے ٹیم کے کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں جانے سے روک دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق برما کی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خوف سے اب تک پانچ لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش ھجرت کرچکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بار بار برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کھلے عام مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا ہے۔

برما میں مسلمانوں پر تشدد روکنے کے لیے سویڈن، امریکا، برطانیہ، مصر، سینیگال اور قزاقستان کی اپیل پر کل جمعرات کو سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا تھا۔

اس موقع پر خطاب میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے برما کے مظلوم مسلمانوں کی مالی امداد کے لیے دل کھول کر عطیات دینے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے میانمار کی حکومت پر زور دیا کہ وہ تشدد کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے اور متاثرہ علاقوں تک امدادی کارکنوں کو رسائی دے تاکہ مظالم کے شکار مسلمانوں تک خوراک اور ادویات پہنچائی جا سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں