.

ایران اور عراق کی سرکاری افواج سرحد پر مشتر کہ مشقیں کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور عراق کی سرکاری مسلح افواج اپنی سرحدوں کے نزدیک علاقے میں جلد مشترکہ مشقیں کریں گی ۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز ان مشترکہ فوجی مشقوں کی اطلاع دی ہے اور یہ گذشتہ سوموار کو عراق کے خود مختار علاقے کردستان میں آزادی کے نام پر ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد بغداد حکومت کی حمایت کے طور پر کی جارہی ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک فوجی ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنگی مشقوں کا فیصلہ ہفتے کے روز ایران کے فوجی کمانڈروں کے اجلاس میں کیا گیا ہے ۔اس میں سرحدی سکیورٹی کے قیام اور سرحدی چوکیوں پر عراقی فورسز کی تعیناتی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم نے بھی مسلح افواج کے ترجمان جنرل مسعود جزائری کے حوالے سے ان فوجی مشقوں کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ یہ آیندہ دنوں میں عراقی کردستان کی سرحد کے نزدیک ایران کے شمال مغربی علاقے میں کی جائیں گی۔

آزادی ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد ایران نے عراقی کردستان کے ساتھ واقع اپنی سرحد بند کردی ہے اور وہاں کے لیے اپنی پروازیں بھی معطل کردی ہیں۔اس ریفرینڈم سے قبل بھی ایرانی پاسداران انقلاب نے اسی علاقے میں فوجی مشقیں کی تھیں۔

عراق کا سرحد پر کنٹرول

دریں اثناء عراقی فوج شمالی کردستان کے ساتھ ملنے والی بین الاقوامی سرحدوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کی تیاری کررہی ہے۔

عراق کا یہ اقدام کردستان کو الگ تھلگ کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔عراق نے گذشتہ روز کردستان کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے لیے تمام بین الاقوامی پروازوں پر بھی پابندی لگا دی تھی۔

ترکی اور ایران میں موجود عراقی فوجی ہفتے کے روز کردستان کی سرحدی گذرگاہوں پر کنٹرول کے لیے کوشاں تھے ۔