.

برطانوی ورجین گروپ کے مالک رچرڈ برینسن نے تغیّر پذیر سعودی عرب میں کیا دیکھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی معروف کاروباری شخصیت اور ورجین گروپ کے مالک سر رچرڈ برینسن نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔ اس کا مقصد سعودی عرب کے ویژن 2030 سے پیدا ہونے والے نئے کاروباری مواقع کا جائزہ لینا تھا۔

انھوں نے ایک جریدے میں اپنے اس سفر کا احوال لکھا ہے اور سعودی عرب کو ایک ایسا ملک قرار دیا ہے جہاں بتدریج بہت سی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔

’’ سعودی عرب کے لیے نیا ویژن‘‘ کے عنوان سے اس مضمون میں برینسن نے سب سے پہلے مملکت میں حال ہی میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلی کا ذکر کیاہے اور وہ ہےخواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ تبدیلی ایک بڑی پیش رفت کی علامت ہے ،انھوں نے اس کو ’’ کرشماتی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان‘‘ سے منسوب ایک بڑی کامیابی بھی قرار دیا ہے۔

آہستہ، مگر مسلسل

برینسن نے لکھا ہے کہ ایک غیرملکی مبصر کی نظر میں تو سعودی عرب میں تبدیلی بڑی سست روی سے رونما ہورہی ہے،مگر ان کے نزدیک ایک ایسے ملک میں ترقی اور تبدیلی کا عمل کوئی آسان کام نہیں تھا جہاں اس کو پیچھے لے جانے والے قدامت پسند بہت تھے اور تبدیلی کے لیے ان ہی قوتوں سے جنگ لڑی گئی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’ میں اس کو سمجھ سکتا ہوں کہ شہزادہ محمد کیا کررہے ہیں؟‘‘

برینسن نے سمندر کی خوب صورتی اور اس کے کنارے آبادی میں امن وسکون کا ذکر کیا ہے۔انھوں نے بحیرہ احمر کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ مملکت کو ایک مقبول سیاحت گاہ بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔واضح رہے کہ ساحلی شہر جدہ میں ویژن 2030 کے تحت ایک نیا جدید شہر بسایا جارہا ہے اور اس سے روزگار کے قریباً 35 ہزار نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔وہاں نئی سیاحت گاہیں بھی بنائی جائیں گی۔

وہ لکھتے ہیں:’’ جزیرے پر کھڑے ہوکر ہم کچھوؤں کو انڈے دینے کے لیے پانی سے باہر نکلتے اور پھر واپس جاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ عقاب اور بگلے فضا میں تیر رہے ہوتے ہیں۔اس سے حقیقی معنوں میں ایک خوش نما سمندری ماحول بنتا ہے اور یہ ممکنہ طور پر دنیا کے حیران کن سمندری مناظر میں سے ایک ہے‘‘۔

مدائن الصالح

رچرڈ برینسن نے اپنے سفر نامے میں سعودی عرب میں یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دی گئی جگہ مدائن الصالح کا اردن میں بطرا کے مقام سے موازنہ کیا ہے۔دونوں جگہیں ایک ہی تہذیب سے تعلق رکھتی ہیں مگر انھوں نے مدائن الصالح کو زیادہ شاندار قرار دیا ہے اور اس کے گرد ونواح میں واقع پہاڑوں کے مناظر اور دل کش رنگوں سے بھرپور چٹانوں کو زبردست سیاحت گاہ قرار دیا ہے۔۔

برینسن نے اس تمام جگہ کا فضائی جائزہ لینے اور سعودی عرب کی خوب صورتی کو اجاگر کے لیے ورجین غباروں کی وہاں تنصیب کا بھی انتظام کیا تھا ۔انھوں نے مشہور ٹرین المیے کی جگہ کا بھی معائنہ کیا۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں لارنس آف عریبیہ نے اس جگہ ٹرین کو آگ لگا دی تھی ۔برینسن نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ لارنس آف عریبیہ ان کے بچپن کے ہیرو رہے ہیں۔

انھوں نے سعودی عرب میں اپنے سفری تجربے کا اختتام اس امید کے ساتھ کیا ہے کہ ’’ مزید زائرین اور سیاح مملکت کی سیر کو آئیں گے تاکہ وہ اس کی زبردست خوب صورتی کو دیکھ سکیں اور اس کے عوام کے بارے میں براہ راست جان سکیں‘‘۔