.

500 فرانسیسی بچے شام وعراق میں داعش کے چنگل میں پھنس چکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 500 بچوں سمیت 1200 فرانسیسی شہری شام اور عراق میں ’داعش‘ کے شدت پسندوں کے زیر تسلط علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی ایوان صدر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ شام اور عراق میں داعش کے زیرتسلط علاقوں میں 700 بالغ فرانسیسی موجود ہیں جن میں ایک تہائی خواتین ہیں جب کہ 500 بچے بھی شدت پسندوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ داعش کے چنگل میں پھنسے فرانسیسی شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے قانونی مشکلات کا سامنا ہوگا۔

فرانسیسی حکومت کے عہدیدار نے بتایا کہ نصف فرانسیسی بچے عراق اور شام ہی میں پیدا ہوئے ہیں۔ دو ہزار فرانسیسی شہری شام اور عراق میں مقیم ہیں جب کہ ان میں سے 200 سے 300 افراد لڑائیوں کےدوران ہلاک ہوچکے ہیں۔

عراق اور شام میں شدت پسندوں کے ساتھ شامل رہنے کے بعد واپس فرانس آنے والے افراد کو تفتیش کا سامنا ہے۔ اگست میں فرانیسی وزیر داخلہ جیرار کولم نے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ واپس آنے والے 271 افراد زیر تفتیش ہیں۔

ادھر عراقی حکومت نے مبینہ طور پر داعش کے جنگجوؤں کے اہل خانہ پر مشتمل 1400 خواتین اور بچوں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ ان لوگوں کو عراق میں ایک سے دوسرے کیمپوں میں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔