.

تنخواہوں سے محروم یمنی اساتذہ باغیوں کے خلاف سراپا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت باغیوں کے زیرتسلط کئی دوسرے علاقوں میں کل ہفتے کے روز اسکولوں کے اساتذہ نے ہڑتال اور احتجاج جاری رکھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق باغیوں کے شیڈول کےمطابق نئے تعلیمی سال کے آغاز پربھی اساتذہ کو ان کی تںخواہیں ادا کی نہیں کی جاسکی ہیں۔ احتجاجی اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ ایک سال سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ کل ہفتے کو یمن میں باغیوں کے زیرتسلط علاقوں میں تعلیمی سیزن کا پہلا دن تھا مگر پہلے ہی روز اساتذہ نے تدریسی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایک سال سے بند تنخواہیں ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یمن میں اساتذہ نے پہلے ہی تعلیمی سال کےآغاز پر ہڑتال اور مظاہروں کا اعلان کرر کھا تھا۔ باغیوں کی قائم کردہ عالمی سطح پر غیر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر ڈاکٹر عبدالعزیز بن حبتور نے جمعہ کے روز تنظیم اساتذہ کےنمائندہ سے ملاقات میں انہیں احتجاج کا فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی تھی مگر اساتذہ نے باغیوں کے وزیر کی تمام یقین دہانیوں کے باوجود احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف باغیوں کی قائم کردہ حکومت ان کے حقوق کی ترجمانی نہیں کرسکتی۔ باغیوں کی جانب سے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائی کے لیے فنڈ قائم کرنے، اساتذہ کو ٹرانسپورٹ کی مد میں ایندھن اور گھر کی ضروریات کے لیے سامان فراہم کرنے کا یقین دلایا گیا تھا مگر ان تمام وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

یمن میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں ایک ایسے وقت میں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز ہوا ہے جب ملک میں جاری خانہ جنگی اور بحران کے باعث 60 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ باغیوں کی جانب سے آئینی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے بعد اب تک تین لاکھ اساتذہ اس بحران سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو ایک سال سے تنخواہیں نہیں مل سکی ہیں۔