.

لاطینی امریکا میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کو ایران کی مدد حاصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ لاطینی امریکا کے ملک پیرو میں موجود لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے دہشت گردوں کو اپنی کارروائیوں کے لیے ایران کی بھرپور مدد حاصل ہے۔

امریکی نیوز ویب سائیٹ ’بریٹ پارٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق سینٹ کہ داخلہ سیکیورٹی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی مرکز کے چیئرمین نیکولس راسموسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی مدد سے حزب اللہ ملیشیا کے اسمگلرلاطینی امریکا کے ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے تہران کی مدد سے تیاری کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ سابق صدر باراک اوباما کےدور میں امریکی انٹیلی جنس حکام نے سنہ 2015ء کو تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر معاہدے کے بعد ایران اور حزب اللہ کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کردیا تھا۔

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدرمنتخب ہونے کے بعد حزب اللہ سے وابستہ کئی شدت پسندوں کو دوبارہ دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں تنظیم کا شام میں قتل عام میں ملوث ایک کمانڈر ھاشم صفی الدین بھی شامل ہے۔

لاطینی امریکا کے ممالک حزب اللہ کو دہشت گرد قرار نہیں دے سکے حالانکہ امریکا پیرو اور وینز ویلا کے ایران کے ساتھ جاری تجارتی، سیاسی اور اقتصادی تعلقات کی بناء پران ملکوں کو خبردار کرچکا ہے۔

حال ہی میں پیرو کے پراسیکیوٹر جنرل مویز وگا دلا کروز نے کہا تھا کہ حزب اللہ ’آباکائی‘ نامی مسلمان اکثریتی علاقے کی آڑ میں اپنی غیرقانونی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں حزب اللہ باقاعدہ طورپر رجسٹرڈ ہوچکی ہے۔

امریکی عہدیدار راسموسن نے خبردار کیا کہ ایران نہ صرف مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے لیے دہشت گرد گروپوں اور عناصر کو اسلحہ، رقوم اور عسکری تربیت دے رہا ہے بلکہ وہ لاطینی امریکا میں بھی دہشت گردوں کی معاونت کررہا ہے۔