.

اسامہ کے بیٹے کو ختم کرنے کے لیے کمانڈوز کی شام میں دراندازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی فضائیہ کی خصوصی فورسSAS کے عناصر نے کچھ عرصہ قبل شام میں دراندازی کی اور ایک اہم شدّت پسند شخصیت کا زندہ یا مردہ حالت میں شکار کرنے کے لیے گھات لگا کر بیٹھ گئے۔

یہ مطلوب شخصیت حمزہ بن لادن کی ہے جس نے کئی برس اپنا تعاقب کرنے والوں کی نظروں سے اوجھل رہ کر پہلے پاکستان اور پھر ایران میں وقت گزارا۔ امریکیوں نے 2011 میں ایبٹ آباد میں آپریشن کر کے حمزہ کے والد اور القاعدہ تنظیم کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کی زندگی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد حمزہ نے تنظیم کی قیادت کی ذمے داری سنبھالی۔ تاہم مغربی طاقتیں یہ نہیں چاہتی ہیں کہ حمزہ اپنے والد کی طرح شدت پسندی کو پھیلانے میں کامیاب ہو سکے۔ اسی واسطے معروف برطانوی فورس کے 40 کمانڈوز کو اس کی تلاش میں بھیجا گیا اور حکم دیا گیا کہ حمزہ کو زندہ یا مردہ حالت میں قابو کیا جائے۔

برطانوی اخبارDaily Star نے اتوار کے روز اپنی ایک خبر میں برطانیہ کی مشہور "فورس" کے ایک ذریعے کا بیان نقل کیا ہے کہ "ہم جلد یا بدیر اس کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ وہ جب بھی چُوکا تو ہمیں اپنا منتظر پائے گا"۔ اخبار نے ذریعے کا نام ظاہر نہیں کیا۔

ڈیلی اسٹار کے مطابق حمزہ اپنے والد اسامہ بن لادن کی تیسری بیوی خیریہ صابر (سعودی) کی اکلوتی اولاد ہے اور وہ القاعدہ تنظیم نئے سرے سے تشکیل دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اخبار کے مطابق " ایک زمینی ذریعہ شام میں حمزہ سے متعارف ہوا ہے اور اس نے سونے جیسی گراں قدر انٹیلی جنس معلومات حاصل کی ہیں"۔

اخبار کا کہنا ہے کہ مشترکہ بین الاقوامی اتحاد کا "اسپیشل آپریشن یونٹ" شام میں حمزہ بن لادن اور اس کے ساتھیوں کو تلاش کرنے کا مشن انجام دے گا ، برطانیہ کیSAS کے عناصر اس یونٹ کا بنیادی سُتون ہیں۔ اس یونٹ کا منصوبہ ہے کہ حمزہ کو ڈرون طیارے کے ذریعے ہلاک کیا جائے یا پھر ممکن ہو سکے تو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا جائے۔ یونٹ کے افراد تمام تر مطلوب سامان اور آلات سے لیس ہوں گے جن میں خصوصی نشانچی اور سیٹلائٹ کی معاونت شامل ہے۔

اسامہ کا 27 سالہ بیٹا حمزہ بن لادن القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کا داماد ہے۔ اس کے دو بچے ہیں ، بیٹی کا نام خیریہ اور بیٹے کا سعد ہے۔ 2001 میں قندھار میں اسامہ کے ایک بیٹے محمد بن لادن کی شادی کے موقع پر بنائی گئی وڈیو میں کم عمر حمزہ بھی نظر آیا۔ اس موقع پر اس نے اپنے والد کا تحریر کیا ہوا قصیدہ بھی پڑھا۔ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد حمزہ ایران منتقل ہو گیا جس نے القاعدہ تنظیم کی اہم شخصیات اور ان کے اہل خانہ کو سینے سے لگایا۔ حمزہ کا تازہ ترین ظہور دو ہفتے قبل منظر عام پر آنے والی آڈیو ریکارڈنگ ہے جس میں اس نے شام میں جنگجو گروپوں کے درمیان مصالحت پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ان پر ایک پرچم تلے متحدہ ہونے کے لیے زور دیا۔