.

صدر ٹرمپ نے لاس ویگاس میں فائرنگ کو ’’ خالص بُرا فعل‘‘ قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاس ویگاس میں موسیقی میلے پر فائرنگ کے واقعے کو ایک خالص بُرا فعل قرار دے دیا ہے۔فائرنگ کے اس واقعے میں پچاس افراد ہلاک اور چار سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوموار کے روز اپنے مختصر خطاب میں کہا ہے کہ ’’ قوم آج افسوس ، صدمے اور دکھ میں یک جا اور برابر کی شریک ہے‘‘۔

قبل ازیں امریکی صدر نے ایک ٹویٹ میں فائرنگ کے اس واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار تھا۔

لاس ویگاس میں واقع منڈالے ہوٹل اور کسینو میں ایک کنسرٹ کے دوران مسلح شخص نے اچانک اندھا دھند فائرنگ کردی تھی ۔اس نے اسی ہوٹل کی بتیسویں منزل پر کرائے پرایک کمرا لے رکھا تھا اور وہاں سے اس نے فائرنگ کی ہے۔حکام نے اس شخص کی شناخت اسٹیفن پیڈاک کے نام سے کی ہے ۔اس کی عمر چونسٹھ سال تھی اور حکام کے مطابق پولیس کے پہنچنے پر اس نے خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا ہے۔اس کے کمرے سے دس بندوقیں برآمد ہوئی ہیں ۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر واقعے کے اصل محرک کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا ہے۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا لیکن امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کیونکہ حملہ آور اسٹیفن پیڈاک کے فوری طور پرکسی غیرملکی جنگجو گروپ سے روابط کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔اس کا نام بھی غیرمسلموں ایسا ہے جبکہ داعش کا کہنا ہے کہ اس نے حال ہی میں اسلام قبول کیا تھا۔