.

مصر کی کم عمر خاتون نکاح خواں کے حالات و خیالات!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک فیملی کورٹ نے ملک کی جنوبی گورنری اسوان میں ایک 26 سالہ خاتون سمر محمد برکہ کو ’بنبان بحری بارو مرکز‘ کا نکاح خواں مقرر کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سمر محمد برکہ اگرچہ پہلی خاتون نکاح خواں نہیں تاہم وہ اس عہدے پر کام کرنے والی دیگر خواتین کی نسبت عمر میں چھوٹی ہیں۔ مصر کی اسوان گورنری میں ام کلثوم محمد یونس حسنین اور اسماعیلیہ گورنری میں وفاء قطب نکاح خوان ہیں مگر ان کی عمریں 30 سال ہیں۔

سمر محمد برکہ نے سنہ 2013ء میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس عہدے کی اہلیت کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا۔ اس نے اپنے اسی سال فوت ہونے والے چچا کی جگہ نکاح خواں کی ملازمت کے لیے درخواست دی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سمر نے کہا کہ اس نے اپنی پسند اور مرضی سے اپنی چچا کی جگہ علاقے میں نکاح خواں کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ اس نے تین سال پہلے اس عہدے کے لیے درخواست دی تھی۔ اس کے والد اور بھائی جو وکالت کرتے ہیں، نے میرے منگیتر سے بات کرنے کے بعد اس پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

سمر کا کہنا ہے کہ وہ نکاح خواں کا پیشہ اختیار کر کے بہت خوش ہے۔ یہ اس کے لیے ایک نئی ذمہ داری ہے۔ اس کام کے لیے بھائی نے اپنا دفتر اس کے لیے خالی کیا ہے۔ اس کے دفتر میں شادی کے خواہش مند افراد آتے ہیں اور جہاں عقد نکاح منعقد کرنے کے بعد ان کے کاغذات متعلق عدالت میں جمع کرائے جاتے ہیں۔

سمر کا کہنا ہے کہ اب وہ دو بچوں کی ماں ہیں۔ وہ نکاح خواں کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ گھر اور بچوں کو بھی سنبھالتی ہیں۔ تاہم شادی اور نکاح کے کیسز مخصوص ایام اور موسموں میں زیادہ ہوتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر یہ کام نہیں ہوتا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا لوگوں نے خوش دلی سے اسے ایک نکاح خواں کے طور پر قبول کیا ہے یا نہیں تو سمر کا کہنا تھا کہ اب معاشرہ بہت بدل چکا ہے۔ اب والدین اپنی بچیوں کو ملازمت کی نہ صرف اجازت دیتے ہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس کے والدین اور اہل علاقہ نے بھی اس کی بھرپور پذیرائی کی اور تمام لوگ اس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔