.

استحصال کے شکار ایرانی اساتذہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکومت کے مظالم اور معاشی استحصال کا شکار اساتذہ کی بڑی تعداد اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج پر مجبور ہوگئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز ایران کے دارالحکومت تہران میں ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ نے معاشی استحصال اور مالی مراعات سے محرومی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔

احتجاجی اساتذہ نے حکومت پر اساتذہ اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ملازمین کے ساتھ امتیاز برتنے کا الزام عاید کیا۔

خیال رہے کہ ایران میں یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب تعطیلات کے بعد ایران کے سرکاری تعلیمی ادارے ایک ہفتہ قبل کھلے ہیں۔

گذشتہ روز کے مظاہروں کی اپیل ایران کی تنظیم اساتذہ کی جانب سے کی گئی تھی۔ اپیل پر ملک کے بیشتر شہروں میں اساتذہ نے تدریسی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے معاشی حقوق کے حصول کے لیے مظاہروں میں حصہ لیا۔

بعد ازاں مظاہرین کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر حسن روحانی نے اساتذہ کے ساتھ کیے وعدے ایفاء نہیں کیے جس کے بعد انہیں احتجاج پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کرنے والے اساتذہ کو سنگین نتائج کی دھکمیاں دی جاتی اور انہیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’ایلنا‘ کے مطابق جمعہ کو تہران اور البرز شہروں میں ہزاروں اساتذہ نے وزارت تعلیم کے ہیڈ کواٹر کے باہر احتجاج میں حصہ لیا۔ سوشل میڈیا پرشہریوں نے اساتذہ کے احتجاج کی کھل کر حمایت کی ہے۔

ایرانی شہروں مریوان، کرمانشاہ، اراک، شہرکرد، اصفہان، شیراز، تبریز، اھواز، رشت، الیکودزر، قزوین، سنندج، ھمدان، مشہد، تربت، حیدریہ، سقز، خرم آباد، بوشہر، اربیل، یزد اور کازرون میں اساتذہ نے احتجاجی جلوس نکالے اور سوشل میڈیا پر ان شہروں میں اساتذہ کی بھرپور حمایت کی گئی۔