.

اٹلی کی قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب الجزائری شہری بے دخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی کی وزارتِ داخلہ نے ایک الجزائری شہری کو قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب قرار دے کر اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزارتِ داخلہ نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ الجزائری مجرمانہ ریکارڈ کا حامل ہے اور یہ ایک دہشت گرد گروپ میں فعال تھا‘‘۔

’’36 سالہ الجزائری شہری بشیر حجاج کو بیلجیئن حکام نے 8 مئی کو تین سال کے لیے ملک سے بے دخل کیا تھا۔اس کے بعد وہ الجزائر چلا گیا تھا اور پھر وہاں سے اٹلی آ گیا تھا لیکن وہ 24 ستمبر کو اٹلی میں سردینیا جزیرے کے ذریعے غیر قانونی طور پر داخل ہوا تھا‘‘۔

’’ اس کے بعد وہ دارالحکومت روم میں آگیا تھا جہاں اس نے الجزائری کمیونٹی میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مجرمانہ سرگرمیاں شروع کردی تھیں‘‘۔ وزارتِ داخلہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ بشیر حجاج کو گذشتہ جمعرات کو روم سے پکڑا گیا تھا اور اس کی گرفتاری بین الاقوامی پولیس کی جانب سے 4 اکتوبر کو فراہم کردہ ڈیٹا کی مدد سے عمل میں آئی تھی اور ابتدائی تحقیقات سے یہ بات ثابت سامنے آئی ہے کہ وہ بیلجیئم واپس جانا چاہتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس الجزائری شہری اور اس کی بیوی کے درمیان فون کالوں سے اس کے ارادوں کا پتا چلا تھا اور وہ بیلجیئم میں دہشت گردی کا کوئی حملہ کرنا چاہتا تھا۔اس کی بیوی بیلجیئن ہی میں مقیم ہے۔