.

بنگلہ دیش میں روہنگیا کے لیے بڑے مہاجر کیمپ کا منصوبہ خطرناک ہے:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کا تمام روہنگیا مہاجرین کے لیے ایک ہی جگہ بڑے کیمپ کے قیام کا منصوبہ بہت خطرناک ہے کیونکہ گنجان آباد ہونے کی وجہ سے اس کیمپ میں مہلک امراض کے پھیلنےکا اندیشہ لاحق رہے گا ۔

بنگلہ دیش میں 25 اگست سے پڑوسی ملک میانمار سے لٹے پٹے مصیبت زدہ روہنگیا مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں برمی سکیورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسند روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سفاکانہ مظالم ڈھا رہے ہیں،ان کی بستیوں کی بستیاں جلادی گئی ہیں اور ان کی نسلی تطہیر کا سلسلہ جاری ہے ۔وہ برمی فورسز کے مظالم سے بچنے کے لیے بنگلہ دیش کا رُخ کررہے ہیں جہاں سرحد ی شہر کاکس بازار کے نزدیک انھیں مہاجر کیمپوں میں ٹھہرایا جارہا ہے۔

ان کیمپوں میں پہلے ہی ڈھائی تین لاکھ روہنگیا مسلمان ناگفتہ بہ صورت حال میں رہ رہے تھے جبکہ گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ کے دوران میں وہاں قریباً پانچ لاکھ مزید مہاجرین کی آمد ہوچکی ہے۔اب بنگلہ دیشی حکام کاکس بازار کے نزدیک واقع کٹو پالونگ میں مہاجر کیمپ کو مزید توسیع دینا چاہتے ہیں تاکہ نئے آنے والے مہاجرین کو بھی وہاں سمایا جاسکے۔

لیکن ڈھاکا میں اقوام متحدہ کے علاقائی رابطہ کار رابرٹ واٹکنس نے اس کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ بنگلہ دیش کو اس کے بجائے نئی جگہوں پر مزید کیمپ قائم کرنے چاہییں۔انھوں نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر بہت زیادہ لوگوں کو ایک چھوٹی سی جگہ پر ٹھونس دیا جائے گا ،بالخصوص ان لوگوں کو جنھیں پہلے ہی مختلف امراض لاحق ہونے کا اندیشہ ہے تو یہ بہت خطرناک ہوگا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ایسی بڑی خیمہ بستی میں خیموں کو آگ لگنے کا خطرہ موجود رہے گا اور اگر وہاں کوئی وبائی مرض پھیل جاتا ہے تو وہ بڑی تیزی سے پور ے کیمپ ہی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک بڑے کیمپ کے بجائے مختلف چھوٹے چھوٹے کیمپ بنا دیے جاتے ہیں تووہاں مقیم لوگوں کا انتظام سنبھالنا بہت آسان ہوگا ،انھیں صحت عامہ کی بہتر سہولتیں مہیا کی جاسکیں گی اور سکیورٹی کی صورت حال کو بھی قابو میں رکھا جاسکے گا۔

دریں اثناء بنگلہ دیش کی درخواست پر اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین (آئی او ایم ) نے امدادی ایجنسیوں کے کام کو مربوط بنانے سے اتفاق کیا ہے اور وہ کیمپ کی نئی جگہ پر پناہ گاہیں بنانے میں مدد دے گی۔

مہاجرین کی عالمی تنظیم کے مطابق مجوزہ کیمپ مہاجرین کے لیے دنیا میں سب سے بڑا کیمپ ہوگا۔اس وقت یوگنڈا میں قائم بیدی بیدی اور کینیا میں ددآب بڑے کیمپ ہیں جہاں تین ، تین لاکھ کے لگ بھگ مہاجرین کا ٹھہرایا گیا ہے۔

بنگلہ دیشی حکام نے اس منصوبے کے لیے موجودہ کٹوپالونگ کیمپ سے متصل تین ہزار ایکڑ اراضی مختص کی ہے۔ اس کیمپ کی تعمیر سے قبل ہی قریباً تین لاکھ اکتیس ہزار روہنگیا مہاجرین نے وہاں عارضی پناہ گاہیں بنالی ہیں۔