.

تیونس: 10 سال سے گھر میں جکڑے نوجوان کی ویڈیو وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک تیونس میں ’خود فکری‘ کے مرض کے شکار ایک 20 سالہ نوجوان کی ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں اس کے اہل خانہ کی طرف سے اسے 10 سال سے ایک کمرے میں زنجیروں سے باندھ کر رکھے دکھایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں 20 سالہ اشرف العبداوی کو ایک گھر کے کمرے میں تنہائی کے عالم میں رسیوں کےساتھ باندھے دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو سے پتا چلتا ہے کہ رسیوں اور زنجیروں سے باندھا نوجوان باہر نکلنے کی بار بار کوشش کرتا ہے مگر اس کے ہاتھ اور پاؤں باندھنے ہونے کی وجہ سے وہ اس تنگ و تاریک کوٹھڑی سے باہر نہیں آسکتا۔

اسی فوٹیج میں نوجوان کی والدہ کو بھی دکھایا گیا ہے مگر وہ بھی ذہنی مرض کے شکار بچے کے قریب جانے سے قاصر ہے۔

العبداوی کا خاندان وسطی تیونس کی القیروان گورنری میں رہائش پذیر ہے۔ اہل خانہ کی جانب سے اشرف العبداوی کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک اس کی ’آٹزم‘ نامی ذہنی بیماری کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔ اہل خانہ اس نوجوان کی بیماری کو پورے کنبے کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے زنجیروں میں جکڑ کر ایک کمرے میں بند کر کے رکھا گیا ہے۔ لڑکا بعض اوقات خوف ناک قسم کی آوازیں بھی نکالتا ہے جس کی وجہ سے اس کے پڑوسی بھی خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اس کا اعلاج کرنے میں ناکام ہیں اور معذوروں کی دیکھ بحال کے مراکز نے بھی اسے رکھنے سے انکار کردیا ہے۔