.

سعودی عرب کے ساتھ شروع ہونے والا عسکری تعاون جاری رہے گا: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان کے روس کے حالیہ دورے کو تاریخی حیثیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ اس دورے کے نتیجے میں مملکت اور روس کے درمیان اقتصادی اور عسکری معاہدوں کے ایک پیکج پر دستخط کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی موافقت سامنے آئی۔

دونوں ملکوں کے درمیان اسلحے کے سمجھوتے پر دستخط کے بعد کرملن نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ روس اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعاون شاہ سلمان اور صدر پوتین کی بات چیت کے ایجنڈے میں شامل تھا۔ کرملن کے مطابق یہ تعاون" دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے ، کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں"۔

جمعے کے روز ایک پریس کانفرنس میں صدارتی ترجمان دمتری بیسکوف نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو جدید ترین S-400 میزائل نظام کی فراہمی اور عسکری تعاون پر کسی بھی ملک کی جانب سے تشویش کا اظہار بے بنیاد ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ "اس تعاون کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ جاری رہے گا"۔

بیسکوف کے مطابق روس اور سعودی عرب کے درمیان تعاون میں پیش رفت اولا دونوں ملکوں کے اور ثانیا دنیا بھر اور خطے میں امن و استحکام کے مفاد میں ہو گی۔

یاد رہے کہ شاہ سلمان کے حالیہ دورہ ماسکو کے دوران سعودی عرب کی وزارت دفاع نے روس کے ساتھ جدید ترین فضائی دفاعی نظام کی فراہمی سے متعلق کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔

معاہدوں کے تحت سعودعی عرب روس سے (S-400) نظام، (Kornet-EM) نظام، (TOS-1A) میزائل لانچر، (AGS-30) گرینیڈ لانچر اورAK- 103) ) کلاشنکوف خریدے گا۔

علاوہ ازیں مذکورہ نظاموں کی ٹیکنالوجی کو سعودی عرب منتقل کرنے کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔