.

شاہ سلمان کی روس کے تاریخی دورے کے بعد الریاض واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز روس کے تاریخی دورے کے بعد اتوار کی شب دارالحکومت الریاض واپس پہنچ گئے ہیں۔

خادم الحرمین الشریفین کا شاہ سلمان ائیربیس پر شہزادوں کے وفد ، گورنروں اور وزراء نے والہانہ خیرمقدم کیا۔وہ روس کا دورہ کرنے والے سعودی عرب کے پہلے بادشاہ ہیں۔ان کی قیادت میں وفد نے روس کے ساتھ مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے لیے اربوں ڈالرز مالیت کے سمجھوتوں پر دستخط کیے ہیں۔

بعض سمجھوتوں کے تحت سعودی عرب روس میں مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا جس سے مغرب کی پابندیوں کا شکار روس کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا ملے گی۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بھی روسی معیشت کو دھچکا لگا ہے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جمعرات کو ماسکو میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کی تھی ۔اس موقع پر بات چیت میں دونوں رہ نماؤں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے میزبان صدر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی استحکام کے لیے روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چا ہتے ہیں۔ سعودی عرب دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے اور ان کے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے کوششوں کو مربوط بنانا چاہتا ہے۔ نیز شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ ہم تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے روس کے ساتھ مل جل کر کام جاری رکھیں گے۔

دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کا ایک اہم سمجھوتا بھی طے پایا ہے۔اس کے تحت سعودی عرب روس سے اس کا مشہور زمانہ ایس 400 میزائل دفاعی نظام خرید کرے گا۔ اس کے علاوہ روس کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ ( پی آئی ایف) اور سعودی مبادلہ کے درمیان شراکت داری کا ایک سمجھوتا طے پایا ہے ۔اس کے تحت انفرااسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔