.

شاہ سلمان کے دورے سے روسی مسلمانوں کے لیے نئے اُفق کھلے ہیں: مفتیِ اعظم چیچنیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چیچنیا کے مفتیِ اعظم اور چیچن مسلمانوں کی مذہبی انتظامیہ کے سربراہ شیخ صلاح مجیب نے سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورۂ روس کو سراہتے ہوئے اس کو تاریخی اور اہم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دورے کو روس کے تمام لیڈروں نے نمایاں اہمیت دی ہے۔

انھوں نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ’’ مجھے روس کے اسلامی رہ نماؤں کے ساتھ خادم الحرمین الشریفین سے ملاقات کا اعزاز ملا ہے۔ ہمیں روس کے مسلمان ہونے کے ناتے اس دورے پر فخر ہے۔اس دورے سے سعودی مملکت اور باقی تمام اسلامی دنیا کے ساتھ تعاون کے ذریعے روس میں آباد مسلمانوں کے لیے نئے امکانات پید اہوں گے‘‘۔

مفتیِ اعظم نے روس کے مسلمانوں کے امور میں گہری دلچسپی لینے پر شاہ سلمان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس دورے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی سمجھوتوں سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

انھوں نے شاہ سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کی ایک ٹھوس پالیسی کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس کے مالی اور دیگر وسائل کے استیصال کے لیے کوششوں کو سراہا اور کہا کہ دنیا بھر کے تمام سیاست دان بھی سعودی کوششوں کو سراہتے ہیں۔

چیچن مفتیِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’’دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کے اعلیٰ سطح کے دوروں سے سعودی عرب اور روس کے مذہبی اداروں کے درمیان تعلقات مزید گہرے اور مستحکم ہوں گے۔ان سے اسلام کی رواداری ، اعتدال پسندی کی تعلیم اور حقیقی دینی تصورات کو عام کرنے میں مدد ملے گی اور انتہا پسندی سے نمٹا جاسکے گا‘‘۔

شیخ صلاح مجیب نے توقع ظاہر کی ہے کہ ’’ہم سعودی عرب کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے ۔اس مقصد کے لیے سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے تحت قائم کونسلنگ اور انسداد انتہا پسندی مراکز کے دورے کیے جائیں گے۔یہ مراکز سعودی عرب کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوششوں کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔وہ پہلا ملک تھا جس کو دہشت گردی کا سامنا ہوا اور اس کو نقصانات برداشت کرنا پڑے۔پھر اس نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ۔ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی مملکت کے ساتھ ہیں‘‘۔