.

پالیسی سازی میں متحّرک شمالی کوریا کے سربراہ کی پراسرار بہن کون ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری ہتھیار ایک "طاقت ور سدّ راہ" ہے جو ان کے ملک کی سیادت کی ضمانت ہے۔ اتوار کے روز سرکاری میڈیا پر یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کے چند گھنٹے بعد آیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس تنہا ملک کے ساتھ نمٹنے میں "صرف ایک ہی طریقہ درست" ثابت ہو گا۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ ٹرمپ کسی غیر سفارتی حل کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کی بات غیر واضح ہے تاہم امریکی صدر کے ذہن میں فوجی کارروائی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔

پیونگ یانگ میں میڈیا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ نے ہفتے کے روز حکمران جماعت کی اعلیٰ سطح کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں "پیچیدہ بین الاقوامی صورت حال" پر روشنی ڈالی۔ کِم کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار جزیرہ نما کوریا اور شمال مشرقی ایشیا میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط سدّ راہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا اپنے اور اپنے حلیفوں کے تحفظ کے لیے شمالی کوریا کو "مکمل طور پر تباہ" کر دے گا۔

کم جونگ اُن نے اپنے خطاب میں کہا کہ حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ جوہری ہتھیار اور معیشت کو متوازی طور پر ترقی دینے کی شمالی کوریا کی پالیسی بالکل درست ہے۔ کِم کے مطابق پیونگ یانگ پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے باوجود رواں سال قومی معیشت کی نُمو اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہوئی۔

حکم راں انتظامیہ کے اندر تبدیلی

میڈیا کے مطابق حکم راں جماعت کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں حکم راں انتظامیہ کے اندر بعض تبدیلیاں بھی سامنے آئیں۔ اس حوالے سے کم جونگ اُن کی چھوٹی بہن "کِم یو جونگ" کو سیاسی بیورو کا متبادل رکن مقرر کر دیا گیا۔ سیاسی بیورو ملکی فیصلے کرنے والی سپریم اتھارٹی ہے۔

اس فیصلے کے ذریعے کِم جونگ اُن کی 28 سالہ بہن کو ترقی دے دی گئی اور وہ کِم کی پھوپھی "كِم كيونگ ہی" کی متبادل بن گئی۔ کِم کیونگ شمالی کوریا کے سابق سربراہ کِم جونگ اِل کی زندگی میں ملکی فیصلے کرنے والی مرکزی شخصیت تھیں۔

شمالی کوریا کے امور کے ایک ماہر تجزیہ کار مائیکل میڈن کا کہنا ہے کہ "حالیہ اقدام سے ثابت ہوتا ہے کہ کِم جونگ اُن کی یہ بہن کتنے زیادہ اعتماد اور رسوخ کی حامل ہے۔ یہ کِم جونگ اُن کے حکم راں خاندان کی قوت کو مضبوط بنائے گی"۔

رواں برس جنوری میں امریکی وزارت خزانہ نے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کی بنیاد پر "کِم یو جونگ" کو شمالی کوریا کے دیگر ذمے داران کے ساتھ بلیک لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔

وزیر خارجہ کی ترقی

حالیہ ترقیوں میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ "ری یونگ" کا نام بھی شامل ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس کو ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں "شرپسند سربراہ" قرار دیا تھا۔ ری یونگ کو ترقی دے کر مکمل رکن بنا دیا گیا ہے جس کے بعد وہ سیاسی بیورو میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں گے۔

مائیکل میڈن کے مطابق اب ری یونگ کو شمالی کوریا میں ایک سینئر پالیسی ساز کے طور پر مقرر کیا جا سکتا ہے خواہ وہ سرکاری اجلاسوں میں شریک ہوں یا نہ ہوں۔ اس کا مطلب ہوا کہ ان کی طرف سے پیش کی جانے والی کسی بھی تجویز کو فوری طور پر زیر غور لایا جائے گا۔