.

ننھے یمنی طالب علم کے سوال پر حوثی لیڈر شرمسار

کیا اسلام ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے قتل کی اجازت دیتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں بچوں کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے جنگ کا ایندھن بنانے میں ملوث حوثی باغیوں کو بعض اوقات بچوں کی طرف سے ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں ہوتا۔

ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں پیش آیا جب ایک اسکول کے طالب علم نے ایران نواز فرقہ پرست حوثی باغی سے پوچھا کہ آیا اسلام ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے قتل کی اجازت دیتا ہے؟

شمالی یمن کے ایک پرائمری اسکول میں طلباء سے گفتگو کے دوران پیش آنے والے اس سوال پر حوثی لیڈر ہکا بکا رہ گیا۔ پہلے تو وہ ایسے غیر یقینی سوال پر حیران و پریشان ہوا تاہم کچھ دیر بعد اس نے جواب دیا کہ ‘جو آپ کو مارنا چاہے تو اسے قتل کرنا جائز ہے‘۔

پرائمری اسکول کے ایک کم عمر لڑکے کی طرف سے ششدر کردینے والے سوال پر دیگر طلباء پر بھی ورطہ حیرت میں مبتلا تھے۔

یمنی بچے کی جانب سے حوثی لیڈر سے پوچھے گئے سوال میں یمنی باغیوں کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے قتل عام کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔

حوثی باغی لیڈر اپنے زیرتسلط علاقوں میں طلباء کو بہکانے کے لیے ان سے خطاب کرتے رہتے ہیں، مگر انہیں طلباء کی طرف سے عموما اپنے حق میں نعرے بازی کے سوا کسی انوکھی بات کی توقع نہیں ہوتی۔