.

ترکی کی فوج کی جانب سے اِدلِب میں "نگرانی کے مراکز" کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی فوج نے آج جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ اُس نے شام کے شمال مغربی صوبے اِدلِب میں "نگرانی کے مراکز" قائم کرنے شروع کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سیف زون کا قیام عمل میں لانا ہے تا کہ دہشت گردوں کے زیر قبضہ اس ٹکڑی میں لڑائی کا سلسلہ روکا جا سکے۔

ترکی کی فوج کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ نگرانی مراکز قائم کرنے کی کارروائی کا آغاز جمعرات 12 اکتوبر سے ہوا۔ تُرک اخبارات کے مطابق ایک بڑا عسکری قافلہ جمعرات کے روز اِدلب پہنچا تھا جس میں بکتربند گاڑیاں شامل ہیں۔

اس حوالے سے حُریت اخبار نے جمعے کی صبح اپنی اشاعت میں کہا ہے کہ گزشتہ رات تقریبا 30 بکتربند گاڑیوں نے سرحد عبور کی۔ ان گاڑیوں کے ذریعے 100 کے قریب تُرک فوجیوں کو منتقل کیا گیا جن میں اسپیشل فورسز کے اہل کار بھی شامل ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس تعداد کے بڑھنے کا امکان ہے۔

شامی اپوزیشن کے مطابق تیس گاڑیوں پر مشتمل تُرک قافلہ شمال مغربی سرحد پر باب الہوی گزرگاہ کے راستے شام میں داخل ہوا۔ اس دوران قافلے کو شامی تنظیم "ہیئۃ تحریر الشام" کی جانب سے تحفظ حاصل رہا۔

ادحر ترکی کی فوج نے شامی سرحد کے قریب واقع قصبے ریحانی میں اپنے یونٹوں کے لیے اضافی عسکری کُمک بھیجی۔ کُمک میں فوجی گاڑیاں ، فوجیوں کی منتقلی کے لیے بکتربند بسیں اور ایمبولینس کی گاڑیاں شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ترکی کی جانب سے اِدلب اور اس کے اطراف کے علاقوں میں عسکری آپریشن کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ آپریشن گزشتہ ماہ روس اور ایران کے ساتھ شام کے شمال مغرب میں "سیف زون" کے قیام کے لیے طے پائے گئے معاہدے کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے۔

سیف زون میں اِدلب کا صوبہ شامل ہے۔ شام کے شمال مغرب میں واقع اس صوبے کے علاوہ تین صوبوں حماہ ، حلب اور لاذقیہ کے بعض حصّے ابھی تک شامی حکومت کی فورسز کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔

ترکی نے منگل کے روز زور دے کر کہا تحا کہ اِدلب میں حالیہ کارروائیاں خطرے کے ٹل جانے تک جاری رہیں گی۔ البتہ مذکورہ خطرات کا تعیّن نہیں کیا گیا۔

ترکی کے وزیر دفاع نورالدین جانکلی کے مطابق شام کی جانب سے اُن کے ملک کی جانب آنے والے "خطرات" کے ختم ہونے تک اِدلب میں آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی افواج شامی جیشِ حُر کے ساتھ حرکت میں ہیں اور شامی شہری خود اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے۔

دوسری جانب اپنی نوعیت کے پہلے بیان میں ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ شامی اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول صوبے اِدلب میں ترکی کی عسکری کارروائیوں کا مقصد ترکی کا رخ کرنے والے مہاجرین کی لہر کو روکنا ہے۔ حکمراں جماعت جسٹس اینڈ پِیس پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں یلدرم نے مزید کہا کہ ترکی اِدلب صوبے میں کنٹرول کے لیے چوکیاں قائم کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے تا کہ مستقبل میں مزید فوج بھیجی جا سکے۔