.

حوثیوں کے ہاتھوں ایک ماہ میں 17 بچوں سمیت 74 شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر میں حوثی باغیوں کے حملوں میں جنوب مغربی گورنری تعز میں 17 بچوں سمیت 74 شہری جاں بحق اور 143 زخمی ہوئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تعز میں قائم غیر سرکاری تنظیم’ریلیف الائنس‘ کے مطابق باغیوں کے حملوں میں تین خواتین اور سترہ بچوں سمیت 74 عام شہری مارے گئے جب کہ تین خواتین سمیت 11 بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ ‘ریلیف الائنس‘ میں تعز میں امدادی کاموں کے لیے سرگرم 100 تنظیمیں شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعزمیں حوثیوں کے حملوں میں گذشتہ برس 264 بچے یتیم ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر میں باغیوں کےحملوں کے نتیجے میں الخور الضباب اور دوسرے مقامات سے 15 ہزار شہرہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

حملوں میں شہریوں کے 13 مکانات، کئی گاڑیاں اور دیگر املاک تباہ ہوئیں۔ انسانی حقوق گروپ کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ تعزمیں ہیضہ کی وباء سے متاثرہ شہریوں کی بحالی میں کوتاہی خطرناک ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں تعز میں ہیضے کی وباء سے متاثرہ شہریوں کی تعداد 14 ہزار 240 ہے جب کہ 14 شہری ہیضے کے نتیجے میں فوت ہوئے ہیں۔