.

سعودیہ کا ایران سے متعلق نئی امریکی پالیسی کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بارے میں نئی جرات مندانہ پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الریاض ٹرمپ کے ویژن اور اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر انہیں درپیش چیلنجز بالخصوص خطے میں ایران کی معاندانہ پالیسیوں سے نمٹنے کے اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے معاہدے کی حمایت صرف لیے کی تھی کہ اس سے خطے اور پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے روک تھام میں مدد ملے گی۔ یہ سمجھوتا ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

بیان کے مطابق ایران نے عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد واگزار ہونے والی رقوم کو اپنے عوام کی غربت ختم کرنے پر صرف کرنے کے بجائے خطے میں عدم استحکام میں پیدا کرنے پر صرف کرنا شروع کردیں۔ ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو اپ گریڈ کرنا اور خطے میں دہشت گردوں بالخصوص یمن میں حوثی باغیوں اور لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کی معاونت شروع کردی۔

ایران خطے میں دہشت گردوں کی مالی مدد اور میزائل پروگرام پر کام جاری رکھ کر عالمی قراردادوں اور جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ امریکا اور دوسرے حلیف ممالک کے ساتھ ملک کر ایران کے توسیع پسندانہ مذموم عزائم کی روک تھام اور عالمی امن کی مساعی جاری رکھے گا۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے ساتھ اس کی خطے میں جاری شیطانی چالوں کو بھی ناکام بنانا ہوگا۔