.

ناصر الخلیفی کے خلاف جیروم والک کو 70 لاکھ یورو مالیت کا وِلا دینے کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی مختلف کاروباری شخصیات کی جانب سے فٹ بال کے عالمی کپ کے انعقاد ،اس کے ٹھیکوں اور میڈیا حقوق کے حصول کے لیے ناجائز حربے آزمانے اور رشوت ستانی کی نت روز نئی نئی کہانیاں منظرعام پر آ رہی ہیں۔ان میں ایک قطری شخصیت ناصر الخلیفی نے مبینہ طور پر فٹ بال کی عالمی فیڈریشن (فیفا) کے سابق سیکرٹری جنرل جیروم والک کو لاکھوں ڈالرز رشوت دے کر فٹ بال میچوں کے بیش قیمت میڈیا حقوق حاصل کیے ہیں۔

ان دونوں کے رشوت لینے اور دینے کا نیا قصہ اٹلی سے سامنے آیا ہے اور اطالوی پولیس نے اطلاع دی ہے کہ پیرس سینٹ جرمین اور قطر کے بی اِن میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو ناصر الخلیفی کے خلاف بدعنوانیوں کے الزام میں تحقیقات کی جارہی ہے۔ پولیس کے مطابق انھوں نے مبینہ طور پر سردینیا میں واقع 70 لاکھ یورو مالیت کا وِلا فیفا کے سابق سیکریٹری جنرل جیروم والک کو استعمال کے لیے دیا تھا۔

اطالوی پولیس نے جمعہ کے روز سردینیا کے شمال مشرق میں پورٹو سرو کے علاقے میں واقع’’ وِلا بیانکا‘‘ میں تلاشی کی کارروائی اور اس کو ضبط کرنے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تلاشی کی کارروائی سوئس حکام کی موجودگی میں کی گئی تھی اور وہاں سے ملنے والے مواد کو فیفا عالمی کپ کے 2018ء سے 2030ء تک نشریاتی حقوق دینے ،دلانے میں کرپشن کی کارفرمائی کی تحقیقات میں استعمال کیا جائے گا۔

اٹلی میں پولیس کی اس کارروائی سے ایک روز قبل ہی سوئٹزر لینڈ سے یہ خبر آئی تھی کہ وہاں پراسیکیوٹرز نے فیفا کے سابق سیکریٹری جنرل جیروم والک اور قطر کے بی این میڈیا گروپ کے سربراہ ناصر الخلیفی کے خلاف فوجداری مقدمے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

سوئس اٹارنی جنرل کے دفتر نے ایک بیان میں بتایا کہ چار ممالک فرانس ، یونان ، اٹلی اور اسپین میں ان دونوں کے خلاف رشوت ستانی ، فراڈ اور جعل سازی کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہےاور ان چاروں ممالک میں بیک وقت چھاپا مار کارروائیاں کی گئی ہیں۔

اٹارنی جنرل کے بیان کے مطابق ’’ جیروم والک نے فیفا کے زیر انتظام 2018، 2022 ، 2026 اور 2030ء میں ہونے وال فٹ بال کے عالمی کپ کے میچوں کے مختلف ممالک میں میڈیا حقوق دینے کے لیے ایک کاروباری شخصیت سے ناجائز فوائد حاصل کیے تھے۔اس کے علاوہ انھوں نے قطر کے ناصر الخلیفی کو فیفا عالمی کپ 2026ء اور 2030ء کے مقابلوں کے مختلف ممالک کے لیے حقوق دیے تھے‘‘۔بیان میں اول الذکر کاروباری شخصیت کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل نے فرانس سے تعلق رکھنے والے جیروم والک پر ناصر الخلیفی کو بھاری رقوم کے عوض عالمی کپ مقابلوں کے بیش قیمت میڈیا حقوق دینے کا الزام عاید کیا ہے۔گذشتہ سال مارچ میں فیفا کے سابق سیکریٹری جنرل پر مجرمانہ طور پر بد انتظامی اور دوسرے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے تھے اور ان پر دس سال کی پابندی عاید کردی گئی تھی لیکن انھوں نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی۔