.

قطر : شیخ عبداللہ بن علی آل ثانی کے تمام اثاثے منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطری حکومت نے مبینہ طور پر حکمراں خاندان کی معروف شخصیت شیخ عبداللہ بن علی آل ثانی کے تمام اثاثے منجمد کر لیے ہیں۔ ان کے خلاف یہ اقدام امیر قطر شیخ تمیم کی حالیہ خلیج بحران کے دوران میں پالیسیوں کی مخالفت کی پاداش میں کیا گیا ہے۔

شیخ عبداللہ بن علی آل ثانی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں اطلاع دی ہے کہ ’’ قطری حکومت نے مجھے یہ اعزاز بخشا ہے، اس نے میرے تمام بنک کھاتے منجمد کر لیے ہیں۔میں اس اعزاز پر ان کا ممنون ہوں اور میں یہ اعزاز مادر ِوطن کو سونپتا ہوں‘‘۔

انھوں نے لکھا:’’ میں یہ توقع کرتا ہوں کہ قطر موقع پرستوں اور مفادپرست دوستوں کو نکال باہر کرے گا اور دوبارہ خلیج کے دھارے میں لوٹ آئے گا‘‘۔

واضح رہے کہ شیخ عبداللہ بن علی آل ثانی نے گذشتہ ماہ اپنے ہم وطنوں کے نام ایک پیغام میں ان سے اپیل کی تھی کہ وہ امن کے پیغامبروں کے ساتھ متحد ہوجائیں۔انھوں نے قطری عوام سے کہا تھا:’’ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ دانش اور امن کے پیغامبروں سے ملیں اور دلوں کو ملانے کی وکالت کریں‘‘۔

انھوں نے تجویز پیش کی تھی کہ ’’بحران پر غور کے لیے ان کے ساتھ ایک قومی اجلاس منعقد کیا جائے‘‘ کیونکہ ان کے بہ قول ’’اس بحران کے ہوتے ہوئے ہم زیادہ عرصہ خاموش نہیں رہ سکتے ‘‘۔

انھوں نے تب العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ قطر بحران سے صورت حال بد سے بدترہوتی جارہی ہے اور یہ ہمیں ایک ایسی قسمت کی طرف دھکیل رہی ہے جو ہم نہیں چاہتے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز قطر اور اس کے عوام کا تحفظ چاہتے ہیں۔

شیخ عبداللہ بن علی بن عبداللہ آل ثانی قطر کے سابق امیر مرحوم علی بن عبداللہ آل ثانی کے دوسرے بیٹے ہیں اور ایک اور سابق امیر قطر عبداللہ بن جاسم آل ثانی کے پوتے ہیں۔وہ شیخ احمد بن علی آل ثانی کے بھائی ہیں۔شیخ علی بن عبداللہ کی حکومت کا تختہ ان کے چچازاد اور موجودہ امیر قطر شیخ تمیم کے دادا شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی نے 22 فروری 1972ء کو الٹ دیا تھا اور خود اقتدار پر قابض ہوگئے تھے۔ شیخ علی بن عبداللہ آل ثانی کے دور حکومت میں قطر نے نمایاں ترقی کی تھی اور تیل کی پیداوار کے اعتبار سے بھی ایک نیا دور شروع ہوا تھا۔