.

یونیسکو کی مراکشی نژاد نئی سربراہ کون ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی سابق وزیر ثقافت Audrey Azoulay کو اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ مراکشی نژاد آڈرے آزولائی نے 30 ووٹ حاصل کر کے اپنے قطری حریف حمد بن عبدالعزیز الکواری پر برتری حاصل کر لی۔ وہ بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی حالیہ سربراہ ارینا بوکووا کی جگہ لیں گی جو 2009 سے اس منصب پر فائز ہیں۔

آزولائی کا تعلق مراکش کے شہر الصویرہ کے ایک تعلیم یافتہ یہودی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد آندرے آزولائی مراکش کے فرماں روا محمد السادس کے مشیر ہیں اور اس سے قبل السادس کے والد الحسن الثانی کے مشیر کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

فرانسیسی ، ہسپانوی اور انگریزی زبان جاننے والی آڈرے آزولائی 4 اگست 1972 فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پیدا ہوئیں۔ اس سے قبل ان کا خاندان فرانس ہجرت کر چکا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پیرس کے ایک معروف اسکول سے حاصل کی جہاں سابق صدر فرنسوا اولاند جیسی شخصیات اپنے بچپن میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

آزولائی نے 1994 میں مینجمنٹ سائنسز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور پھر ایک برطانوی یونی ورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بھی ماسٹرز مکمل کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کو فرانس میں ثقافت کی سپورٹ اور ترقی کے لیے وقف کر دیا۔ اس مقصد کو یقینی بنانے کے لیے انہوں نے اُن بڑے منصبوں سے بھی فائدہ اٹھایا جن پر وہ فائز رہیں۔

اپنے پیشہ ورانہ کیرئر میں آزولے نے فرانس میں سمعی اور بصری سیکٹر کے بیورو کے سربراہ کے طور پر بھی کام کیا۔ وہ اطلاعات کے شعبے میں حکمت عملی اور تنظیموں کی فنڈنگ کی ذمّے دار رہیں۔ سابق صدر فرنسوا اولاند جب ان سے متعارف ہوئے تو انہوں نے آزولائی کو ثقافتی مشیر کے منصب پر فائز کر دیا۔ بعد ازاں مانوئل والس کی حکومت میں وہ وزیر ثقافت بن گئیں۔

آزولائی کے نزدیک یونسیکو کو "ہمیشہ نئی چیزوں کے حوالے سے مباحثے اور خیالات کا مرکز ہونا چاہیے"۔ ان کے مطابق یہ تنظیم وہ "ڈھال ہے جو سائنسی پیش رفت کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور ثقافتی تنوع اور عالمی اقدار کا دفاع کرتی ہے"۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ارکان (195 ممالک) کی جانب سے توثیق کے بعد آڈرے آزولے 14 اور 15 نومبر کو پیرس میں منعقد ہونے والے ایک اعلانیہ اجلاس میں سرکاری طور پر یونیسکو کی سربراہ بن جائیں گی۔